مستونگ میں جج پر حملہ بلوچستان میں حکومتی رٹ کی ناکامی کا ثبوت ہے، صوبائی حکومت صرف بیانات تک محدود ہے: حافظ حمداللہ


کوئٹہ(قدرت روزنامہ)جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مرکزی رہنما حافظ حمداللہ نے مستونگ میں دہشت گرد حملے کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی گارڈ کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ افسوسناک واقعہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بلوچستان میں ریاست اور صوبائی حکومت عوام کو تحفظ فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔
اپنے ایک بیان میں حافظ حمداللہ نے شہید سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی گارڈ کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا، جبکہ حملے میں زخمی ہونے والوں کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے دعا بھی کی۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی کارکردگی صرف بیانات اور پریس کانفرنسوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حکومتی اور ریاستی رٹ کہاں ہے، کیونکہ حکومت اپنی آئینی ذمہ داری ادا کرنے کی صلاحیت کھو چکی ہے۔
حافظ حمداللہ نے کہا کہ کوئٹہ۔کراچی شاہراہ پر آئے روز مسافر بسوں پر اندھا دھند فائرنگ، بے گناہ شہریوں کا قتل اور مسلح افراد کی آزادانہ نقل و حرکت معمول بن چکی ہے، جو امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی عکاسی کرتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ پہلے بھی متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ صوبائی حکومت کی رٹ صرف زرغون روڈ تک محدود ہے، جبکہ سیکیورٹی اہلکار صرف چند اہم شخصیات کی حفاظت پر مامور ہیں۔ ان کے بقول، عام عوام کی جان و مال کے تحفظ کو نظرانداز کیا جا رہا ہے اور شہری خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔
حافظ حمداللہ نے مطالبہ کیا کہ حکومت امن و امان کی بحالی کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات کرے، دہشت گردی کے واقعات میں ملوث عناصر کو فوری طور پر گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور بلوچستان کے عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

WhatsApp
Get Alert