آپ روزانہ پٹرول مہنگا کر کے ہمیں اذیت پہنچا رہے ہو ظالمو! نصرت جاوید کی حکومتی پالیسیوں پر تنقید

حکومت نے چوروں کی طرح اعلیٰ بیوروکریٹس کی تنخواہوں اور مراعات میں 1 ارب 80 کروڑ روپے کا اضافہ کر دیا، جبکہ عوام کو پٹرول مہنگا کر کے مسلسل دباؤ میں رکھا جا رہا ہے، ٹی وی پروگرام میں گفتگو


لاہور(قدرت روزنامہ)تجزیہ کار نصرت جاوید نے وفاقی حکومت کی معاشی پالیسیوں اور اعلیٰ بیوروکریسی کی تنخواہوں و مراعات میں اضافے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت ایک طرف روزانہ پٹرول مہنگا کر کے عوام کو اذیت پہنچا رہی ہے، جبکہ دوسری جانب اپنے لیے مراعات اور تنخواہوں میں اضافہ کر رہی ہے۔ نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے نصرت جاوید کا کہنا تھا کہ آپ روزانہ پٹرول مہنگا کر کے ہمیں اذیت پہنچا رہے ہو ظالمو! لیکن جو آپ اپنے لئے کر رہے ہیں اس پر بھی نظر ڈالو۔
وفاقی کابینہ نے 12 جون کے اجلاس میں ملک کے اعلیٰ بیوروکریٹس، سی ایس ایس افسران، سیکرٹریز اور ایڈیشنل سیکرٹریز کی تنخواہوں اور مراعات میں ایک ارب 80 کروڑ روپے اضافے کی منظوری دی، تاہم اس فیصلے کی تفصیلات 17 جولائی کو سامنے آئیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ فیصلہ خاموشی سے کیا گیا، جبکہ اس کا بوجھ براہ راست عوام پر ڈالا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت جب بھی مالی دباؤ کا سامنا کرتی ہے تو اس کا اثر تنخواہ دار اور غریب طبقے پر منتقل کیا جاتا ہے، جبکہ بااختیار طبقہ اپنی مراعات میں مسلسل اضافہ کر لیتا ہے۔
ان کے بقول جن افسران کی تنخواہوں میں اضافہ کیا گیا، انہیں پہلے ہی سرکاری رہائش گاہیں، سرکاری گاڑیاں، مفت پٹرول اور دیگر متعدد سہولتیں حاصل ہیں۔


نصرت جاوید نے مزید کہا کہ عام شہری مہنگائی، پٹرول کی قیمتوں میں اضافے اور بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں، جبکہ حکمران اشرافیہ اور اعلیٰ بیوروکریسی کے لیے الگ معیار اختیار کیا جاتا ہے۔
انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ان افسران کے بچے ہارورڈ جیسی عالمی جامعات میں تعلیم حاصل کریں گے، تب ہی انہیں ہونہار قرار دیا جائے گا، جبکہ عام پاکستانیوں کو نسل در نسل معاشی مشکلات اور غلامی کی زندگی میں رکھا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی پالیسیاں عوام میں احساسِ محرومی اور ریاستی نظام پر عدم اعتماد کو مزید بڑھا رہی ہیں۔

WhatsApp
Get Alert