’پاکستان آج بھی وہیں کھڑا ہے جہاں 50 سال پہلے کھڑا تھا‘

ریاستی طاقت کے غلط استعمال اور سیاسی انتقام کا سلسلہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا، حکمران اشرافیہ نے ماضی کی غلطیوں سے سبق نہ سیکھا تو نوجوان نسل ان کے خلاف ایک بڑی تحریک شروع کرسکتی ہے؛ حامد میر کا تجزیہ


اسلام آباد(قدرت روزنامہ)سینئر صحافی اور اینکر پرسن حامد میر نے کہا ہے کہ اگر پاکستان میں بار بار مارشل لا نافذ نہ کیا جاتا اور آئین کو معطل کرنے کی روایت جنم نہ لیتی تو ملک کو آج جن سیاسی، آئینی اور سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے، ان میں سے بہت سے مسائل پیدا ہی نہ ہوتے، بلوچستان اور خیبرپختونخواہ کے موجودہ حالات کی جڑیں بھی ماضی کی انہی پالیسیوں میں پیوست ہیں جنہوں نے جمہوری عمل کو کمزور کیا اور ریاستی اداروں کو سیاسی معاملات میں مداخلت کا راستہ فراہم کیا۔
تفصیلات کے مطابق حامد میر نے اپنے تجزیے میں کہا کہ جنرل ضیاء الحق کے 11 سالہ دورِ حکومت میں کلاشنکوف کلچر کو فروغ ملا، جس کے نتیجے میں ناصرف معاشرے میں تشدد کا رجحان بڑھا بلکہ بعد ازاں اختیار کی جانے والی مختلف پالیسیوں نے بھی جمہوری نظام کو مسلسل نقصان پہنچایا، اسی دور میں انٹیلی جنس ایجنسیوں کی سیاست میں مداخلت بڑھی، سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کیا گیا اور اقتدار کے حصول کے لیے غیر جمہوری طریقوں کو معمول بنا دیا گیا، جس کے اثرات آج بھی ملکی سیاست پر نمایاں ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ سیاسی انتقام کی یہ داستان نئی نہیں بلکہ کئی دہائیوں پر محیط ہے، یہ سلسلہ بلور خاندان اور شاہ رخ خان کے والد تاج محمد خان کے سیاسی انتقام کا نشانہ بننے سے شروع ہوا اور وقت کے ساتھ مختلف سیاسی رہنماء بھی اس کا شکار بنتے رہے، پاکستان پیپلز پارٹی کے صدر آصف علی زرداری بھی ماضی میں سیاسی مقدمات کا سامنا کرتے رہے جبکہ مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف اور وزیراعظم شہباز شریف بھی مختلف ادوار میں سیاسی دباؤ اور مقدمات کا سامنا کر چکے ہیں۔
حامد میر کہتے ہیں کہ اگرچہ آج آصف علی زرداری صدرِ مملکت ہیں اور شہباز شریف وزیراعظم کے منصب پر فائز ہیں، تاہم اس کے باوجود ملک میں سیاسی اختلاف رکھنے والوں کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ ختم نہیں ہوا، ان کے دور میں آج ایک سابق وزیراعظم عمران خان جیل میں ہیں جبکہ اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے متعدد دیگر رہنماء بھی مختلف مقدمات اور گرفتاریوں کا سامنا کر رہے ہیں، جس سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ پاکستان اب بھی سیاسی انتقام کے اسی چکر سے باہر نہیں نکل سکا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان آج بھی تقریباً اسی مقام پر کھڑا ہے جہاں نصف صدی قبل تھا کیونکہ ریاستی طاقت کے غلط استعمال اور مخالفین کے خلاف سیاسی کارروائیوں کا سلسلہ رکا نہیں، ملک میں آج بھی ریاستی نظام کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے مخالفین کو جیلوں میں ڈالا جا رہا ہے اور ان پر جھوٹے مقدمات قائم کیے جا رہے ہیں، جبکہ ماضی کی غلطیوں سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا گیا۔
حامد میر نے زور دیا کہ وقت آ گیا ہے ریاستی ادارے، حکمران اشرافیہ اور سیاسی قیادت ماضی کی پالیسیوں اور غلطیوں کا سنجیدگی سے جائزہ لیں، اگر ماضی سے سبق نہ سیکھا گیا اور سیاسی اختلاف کو برداشت کرنے کی روایت فروغ نہ دی گئی تو نوجوان نسل میں بے چینی مزید بڑھے گی، جو مستقبل میں ایک بڑی عوامی تحریک کی صورت اختیار کرسکتی ہے، جیسی تحریکیں بعض ہمسایہ ممالک میں بھی دیکھی جا چکی ہیں۔

WhatsApp
Get Alert