تجارتی گاڑیوں پر حملے پاک ایران معاشی روابط اور ترقیاتی منصوبوں کو نقصان پہنچانے کی سازش ہیں، وزیر داخلہ بلوچستان
قومی و بین الاقوامی شاہراہوں کی حفاظت کے لیے خصوصی سکیورٹی فورس قائم کر دی گئی ہے، میر ضیا اللہ لانگو

کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے کہا ہے کہ ایران سے آنے والے مائع گیس )ایل پی جی( بازرز، آئل ٹینکروں اور دیگر تجارتی گاڑیوں پر ہونے والے حملے محض سکیورٹی کے واقعات نہیں بلکہ پاکستان اور ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے تجارتی تعلقات، علاقائی معاشی روابط اور بڑے ترقیاتی منصوبوں کو نقصان پہنچانے کی ایک منظم کوشش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کر رہی ہے اور قومی و بین الاقوامی شاہراہوں کی حفاظت کے لیے خصوصی سکیورٹی فورس بھی قائم کر دی گئی ہے وزیر داخلہ کا یہ بیان ضلع چاغی کے علاقے نوکچہ میں پیش آنے والے حالیہ واقعے کے بعد سامنے آیا، جہاں نامعلوم مسلح افراد نے ایران سے پاکستان آنے والے تین ایل پی جی بازرز کو آگ لگا دی تھی۔ یہ واقعہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران تجارتی گاڑیوں پر ہونے والے حملوں کی تازہ ترین کڑی قرار دیا جا رہا ہے، جس نے نہ صرف ٹرانسپورٹرز بلکہ تاجروں، سرمایہ کاروں اور صنعتی حلقوں میں بھی شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ذرائع کے مطابق کوئٹہ۔تفتان شاہراہ پر مسلسل حملوں اور سکیورٹی خدشات کے باعث تجارتی قافلوں کی نقل و حرکت سخت متاثر ہوئی ہے۔ یہ شاہراہ پاکستان اور ایران کے درمیان زمینی تجارت کی اہم ترین راہداری ہے، جہاں سے ایل پی جی، پٹرولیم مصنوعات، معدنیات، تعمیراتی سامان، مشینری اور دیگر تجارتی اشیا ملک کے مختلف حصوں تک پہنچائی جاتی ہیں۔پولیس حکام کے مطابق اس وقت تفتان بارڈر پر ایل پی جی لوڈ ہونے کے انتظار میں 400 سے زائد ٹرک موجود ہیں، جبکہ تاجروں اور کاروباری نمائندوں کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر ایک ہزار 500 سے دو ہزار کے درمیان بازرز اور کارگو ٹرک مختلف اقسام کا سامان لے کر سرحد پر رکے ہوئے ہیں اور سکیورٹی کلیئرنس کے منتظر ہیں میر ضیا اللہ لانگو نے کہا کہ کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور دیگر کالعدم تنظیمیں نہ صرف ایران سے آنے والے تجارتی قافلوں کو نشانہ بنا رہی ہیں بلکہ ان کا مقصد چین، ایران اور پاکستان کے درمیان جاری ترقیاتی منصوبوں اور اقتصادی تعاون کو بھی نقصان پہنچانا ہے۔ ان کے مطابق ان عناصر کی کوشش ہے کہ پاکستان کو معاشی نقصان پہنچایا جائے، غیر ملکی سرمایہ کاری کا اعتماد مجروح کیا جائے اور عالمی سطح پر ملک کی ساکھ کو متاثر کیا جائیوزیر داخلہ نے مزید دعوی کیا کہ ان تنظیموں کو بیرونی معاونت حاصل ہے اور ان کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی پاکستان سے باہر کی جاتی ہے۔ تاہم ان الزامات پر متعلقہ ممالک پہلے بھی تردید کرتے رہے ہیں وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے بتایا کہ حکومت نے قومی اور بین الاقوامی شاہراہوں کی حفاظت کے لیے خصوصی فورس قائم کر دی ہے، جو باقاعدہ کام شروع کر چکی ہے۔ ان کے مطابق آئندہ چھ ماہ کے دوران اس فورس کو مرحلہ وار بلوچستان کے پانچ اہم اضلاع میں تعینات کیا جائے گا جبکہ کوئٹہ۔تفتان شاہراہ پر سکیورٹی مزید سخت بنانے کے لیے بھی اضافی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔بلوچستان حکومت کے ایک سینئر سرکاری افسر نے یو این اے بتایا کہ دالبندین سے گڈاپ تک ایل پی جی بازرز، آئل ٹینکرز اور معدنیات لے جانے والی گاڑیوں پر حملوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب زیادہ تر تجارتی گاڑیاں ایف سی اور پولیس کی نگرانی میں قافلوں کی صورت میں سفر کرتی ہیں، تاہم حالیہ حملے کا نشانہ بننے والے بازر سکیورٹی قافلے کا انتظار کیے بغیر روانہ ہوئے تھیریکوڈک منصوبے سے وابستہ ذرائع کے مطابق علاقے میں غیر ملکی سرمایہ کاری اور ترقیاتی سرگرمیوں میں اضافے کے ساتھ حملوں کی شدت بھی بڑھی ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران اوسطا ہر ہفتے دو سے تین حملے رپورٹ ہوئے ہیں، جبکہ ایران سے ایل پی جی لانے والے ٹرک مسلسل نشانہ بن رہے ہیں۔ اس صورتحال کے باعث کئی ڈرائیوروں نے سکیورٹی خدشات کی وجہ سے اس روٹ پر گاڑیاں چلانے سے بھی انکار کر دیا ہے بلوچستان چیمبر آف کامرس کے صدر محمد ایوب مریانی نے کہا کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں تیل، گیس، ایل پی جی اور دیگر تجارتی سامان لے جانے والی درجنوں گاڑیاں نذر آتش کی جا چکی ہیں، جس کے باعث نہ صرف کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں بلکہ کوئٹہ اور دیگر اضلاع میں اشیائے خوردونوش اور ایندھن کی فراہمی بھی دبا کا شکار ہے ان کے مطابق تاجروں اور ٹرانسپورٹرز نے سکیورٹی کی صورتحال کے خلاف احتجاج بھی کیا تھا، تاہم حکومت اور سکیورٹی اداروں کی جانب سے خصوصی فورس تعینات کرنے کی یقین دہانی کے بعد احتجاج عارضی طور پر معطل کر دیا گیاادھر چاغی چیمبر آف کامرس کے ایک عہدے دار نے بتایا کہ تفتان بارڈر پر اس وقت تقریبا 15 ارب روپے سے زائد مالیت کا تجارتی سامان رکا ہوا ہے، جس میں ایل پی جی، پٹرولیم مصنوعات، تعمیراتی سامان، معدنیات، صنعتی مشینری اور اشیائے خوردونوش شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سکیورٹی کی صورتحال جلد بہتر نہ ہوئی تو نہ صرف پاکستان اور ایران کے درمیان تجارتی سرگرمیاں مزید متاثر ہوں گی بلکہ بلوچستان کی معیشت، صنعتی منصوبوں اور ملکی سپلائی چین پر بھی اس کے دور رس منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
