میں نے ریاست کی بات کی‘ ریاست سے مراد اسٹیبلشمنٹ نہیں تھا، بلاول بھٹو زرداری

میں قومی مفاد میں ریاستی فیصلوں کی بات کر رہا تھا، قومی مفاد کے ہر فیصلے میں پاکستان پیپلزپارٹی ہمیشہ ریاست کے ساتھ کھڑی رہی ہے؛ چیئرمین پیپلزپارٹی کی وضاحت


اسلام آباد(قدرت روزنامہ)چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اپنے حالیہ بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ میری ریاست سے مراد اسٹیبلشمنٹ نہیں تھی بلکہ ریاستی اداروں اور قومی مفاد کے تناظر میں بات کی، ہم ہمیشہ قومی مفاد اور جمہوری عمل کے استحکام کی سیاست کرتے آئے ہیں۔ اے آر وائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے وضاحت کی کہ اس سے مراد ہرگز اسٹیبلشمنٹ نہیں تھی بلکہ میں قومی مفاد میں ریاستی فیصلوں کی بات کر رہا تھا، قومی مفاد کے ہر فیصلے میں پاکستان پیپلزپارٹی ہمیشہ ریاست کے ساتھ کھڑی رہی ہے، خطے کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر پاکستان کو داخلی سطح پر اتحاد اور اتفاقِ رائے کی ضرورت ہے تاکہ قومی مفادات کا مؤثر انداز میں تحفظ کیا جا سکے۔
چیئرمین پیپلزپارٹی نے آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں اگر انتخابات مکمل طور پر شفاف ہوتے تو زیادہ بہتر ہوتا، میری جماعت کے ایک کارکن کو قتل کیا گیا، بعض حلقوں میں انتخابی عمل پر بھی سنگین اعتراضات سامنے آئے، ہمارے امیدوار چوہدری محمد یاسین کے حلقے کے تقریباً 30 پولنگ اسٹیشنز پر قبضہ کیا گیا، پولنگ ایجنٹس کو باہر نکال کر ووٹنگ کے عمل پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی گئی۔


ان کا کہنا ہے کہ میں نے آزاد جموں و کشمیر میں بھرپور انتخابی مہم چلائی، تاہم وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور وفاقی وزراء کی انتخابی مہم میں موجودگی ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی تھی، گلگت بلتستان کے بعد اب میرپور ڈویژن میں بھی نشستیں چوری کرنے کی کوشش کی گئی، جسے ہرگز برداشت نہیں کریں گے اور متاثرہ امیدواروں کو انصاف دلانے کے لیے تمام قانونی ذرائع استعمال کیے جائیں گے، پاکستان پیپلز پارٹی قانونی اور آئینی راستہ اختیار کرتے ہوئے اپنی نشستیں واپس حاصل کرنے کی کوشش کرے گی۔
بلاول بھٹو زرداری نے آزاد جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک خط کے ذریعے ٹروتھ اینڈ ری کنسیلیشن کمیشن قائم کرنے کی تجویز دی تھی تاکہ تمام فریقین کے تحفظات کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جا سکے، اگر کسی نے قانون اپنے ہاتھ میں لیا ہے تو اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے، احتجاج کرنے والوں سے بھی احتجاج مؤخر کرنے اور حکومت سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی، تاہم افسوس کہ تجویز پر کسی جانب سے مثبت ردعمل سامنے نہیں آیا۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں عام شہریوں، پولیس اہلکاروں اور سکیورٹی فورسز کے جوان جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں، اس لیے الزام تراشی کے بجائے مسائل کے حل کے لیے مفاہمت اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے، اگر احتجاج کے دوران اسلحہ استعمال ہوا یا عام شہریوں کو کسی مقصد کے لیے استعمال کیا گیا تو اس کا تعین بھی غیر جانبدار کمیشن کے ذریعے ہونا چاہیے، اگر وفاقی وزراء کے الزامات حقائق پر مبنی نہیں تو اس سے ناصرف کشمیر کاز بلکہ آزاد جموں و کشمیر کے مفادات کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

WhatsApp
Get Alert