تربت میں سات مزدوروں کا قتل، منگچر میں شہری کی شہادت اور شاہراہ سے چار افراد کا اغواء بدترین دہشت گردی اور لاقانونیت کا ثبوت ہے: پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی

حکومت اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر بڑے سوالات، قاتلوں کو فوری گرفتار اور مغویوں کو بحفاظت بازیاب کرایا جائے: پریس ریلیز


کوئٹہ (قدرت روزنامہ) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی سیکریٹریٹ سے جاری کردہ پریس ریلیز میں تربت میں سات بے گناہ مزدوروں کے بہیمانہ قتل اور گزشتہ کوئٹہ۔کراچی شاہراہ پر پیش آنے والے پے در پے افسوسناک واقعات منگچر کے مقام پر مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں معصوم شہری سلمان خان نورزئی کی شہادت کی شدید ترین اور گزشتہ چار دنوں سے ضلع قلعہ عبداللہ اور چمن کے چار افراد کی کوئٹہ ۔ کراچی شاہراہ سے اغواء اور تاحال عدم بازیابی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ان واقعات کو بدترین دہشت گردی، لاقانونیت اور صوبے میں امن و امان کی مسلسل بگڑتی ہوئی صورتحال کا واضح ثبوت قرار دیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ نہتے شہریوں کو اغوا کرنا، بے گناہ مزدوروں کو قتل کرنا اور شاہراہوں پر عام مسافروں کو نشانہ بنانا نہایت افسوسناک، غیر انسانی اور ناقابلِ برداشت اقدامات ہیں۔ ایسے واقعات نہ صرف صوبے کے امن، سماجی ہم آہنگی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے سنگین خطرہ ہیں بلکہ یہ ریاستی اداروں اور حکومت کی کارکردگی پر بھی بڑے سوالات کھڑے کرتے ہیں۔ پارٹی نے کہا کہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ حکومت اور متعلقہ اداروں کی بنیادی آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے، تاہم افسوس کے ساتھ یہ ذمہ داری مؤثر انداز میں پوری ہوتی دکھائی نہیں دے رہی۔ پریس ریلیز میں کہا گیا کہ منگچر کے مقام پر سلمان خان نورزئی کو فائرنگ کرکے شہید کرنا ایک المناک سانحہ ہے، جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی مطالبہ کرتی ہے کہ اس واقعے میں ملوث تمام مسلح عناصر اور سلمان خان نورزئی کے قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کرکے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔ اسی طرح کوئٹہ۔کراچی شاہراہ سے اغوا کیے گئے چار افراد کو فوری اور بحفاظت بازیاب کرایا جائے اور تربت میں سات مزدوروں کے قتل میں ملوث عناصر، ان کے سہولت کاروں اور سرپرستوں کو بھی بلاامتیاز گرفتار کرکے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ پارٹی نے کہا کہ کوئٹہ۔کراچی قومی شاہراہ مسلسل بدامنی، دہشت گردی، اغوا، ڈکیتی، راہزنی اور فائرنگ کے واقعات کی وجہ سے عوام کے لیے غیر محفوظ بن چکی ہے۔ مسافر، ٹرانسپورٹرز، مزدور، تاجر اور عام شہری شدید خوف و ہراس کا شکار ہیں، جبکہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جرائم پیشہ اور مسلح عناصر کو کھلی چھوٹ حاصل ہے۔ یہ صورتحال صوبائی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ صوبے میں امن و امان کی مخدوش صورتحال روز بروز سنگین ہوتی جا رہی ہے۔ اگر بروقت، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد مزید مجروح ہوگا۔ پارٹی نے مطالبہ کیا کہ کوئٹہ۔کراچی شاہراہ سمیت صوبے کی تمام اہم شاہراہوں پر مؤثر اور مستقل سکیورٹی انتظامات کو یقینی بنایا جائے، دہشت گردوں، مسلح جتھوں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے اور عوام کو جان و مال کے تحفظ کے ساتھ پرامن سفری ماحول فراہم کیا جائے۔ پریس ریلیز میں مزید کہا گیا کہ صوبے کے عوام گزشتہ کئی برسوں سے بدامنی، دہشت گردی اور لاقانونیت کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ امن و امان کی بحالی، شہریوں کے تحفظ اور قانون کی بالادستی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات کرے تاکہ عوام میں پائے جانے والے خوف اور بے یقینی کا خاتمہ ہو سکے۔ دریں اثنا، شہید سلمان خان نورزئی کی نمازِ جنازہ اور تدفین میں پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے سمنگلی علاقائی سیکریٹری حاجی عبداللہ جان اچکزئی سمیت پارٹی کے دیگر رہنماؤں اور کارکنوں نے شرکت کی۔ پارٹی رہنماؤں نے مرحوم کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے شہید کے درجات کی بلندی، مغفرت اور پسماندگان کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی۔

WhatsApp
Get Alert