صوبے میں بد امنی اور دہشتگردی کا زمہ دار موجودہ وفاقی اور صوبائی حکومت ہے، اگر ان سے بلوچستان کے حالات کنٹرول نہیں ہوتے تو استعفیٰ دیکر گھر چلے جائے: اراکین بلوچستان اسمبلی


کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) اراکین بلوچستان اسمبلی نے صوبے میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی، بدامنی اور آئے روز قومی شاہراہوں کی بندش پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے صوبے میں بد امنی اور دہشتگردی کا زمہ دار موجودہ وفاقی اور صوبائی حکومت ہے صوبے میں امن امان کی بگڑتی صورتحال پر عوام کو شدید خطرات لاحق ہے کوئٹہ کراچی شاہراہ گزشتہ 2 مہینوں سے یرغمال ہے جس کے باعث عوام سفر کرنے سے گریزاں ہے حکومت اگر عوام کو تحفظ دینے میں ناکام ہے تو فوری طورپر استعفیٰ دی جائے ‘ان خیالات کا اظہار رکن بلوچستان اسمبلی و اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری‘رکن اسمبلی نواب اسلم ریسانی ‘رکن اسمبلی میر زابد علی ریکی اور سردار عبدالرحمن کھیتران نے الگ الگ بات چیت کرتے ہوئے کیا اراکین بلوچستان اسمبلی نے کہا ہے کہ صوبے کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی کی صورتحال مسلسل خراب ہو رہی ہے، جبکہ متعدد قومی شاہراہیں بار بار بند ہونے سے شہریوں، مسافروں، مریضوں اور تاجروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سڑکوں کی بندش سے نہ صرف کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں بلکہ عوام میں بھی بے چینی بڑھ رہی ہے اراکین اسمبلی نے اس بات پر بھی تنقید کی کہ کوئٹہ شہر میں رات کے اوقات میں سیکیورٹی کے نام پر اہم شاہراہوں پر کنٹینرز رکھ کر راستے بند کر دیے جاتے ہیں، جس سے شہریوں کو آمد و رفت میں شدید دشواری پیش آتی ہے مریضوں، خواتین، بزرگوں اور ایمرجنسی سروسز کو بھی غیر معمولی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اراکین نے مطالبہ کیا کہ حکومت امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے، قومی شاہراہوں کو محفوظ اور کھلا رکھنے اور شہریوں کو غیر ضروری مشکلات سے بچانے کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات کرے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے اور اس ضمن میں فوری اقدامات ناگزیر ہیں اگر ان سے بلوچستان کے حالات کنٹرول نہیں ہوتے تو استعفیٰ دیکر گھرچلے جائے ۔

WhatsApp
Get Alert