پیسے نہیں ہیں تو کوئی بات نہیں، اس سال مزید ایک ہزار بچوں کو چین بھجوائیں گے، وزیراعظم

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) وزیراعظم شہباز شریف نے نوجوانوں کے عالمی دن کے موقع پر ملک کی پہلی نیشنل یوتھ پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے لیبر فورس میں خواتین کے لیے 35 فیصد کوٹا لازمی قرار دینے اور نوجوانوں کو اپنا کاروبار شروع کرنے کے لیے اسٹارٹ اپس میں 10 فیصد کوٹا مختص کرنے کا اعلان کردیا۔ اسلام آباد میں نوجوانوں کے عالمی دن کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں لاکھوں باصلاحیت اور ذہین نوجوان موجود ہیں، جنہیں معیاری تعلیم اور مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ دنیا کے بہترین نوجوانوں کا مقابلہ کرسکتے ہیں، معاشرے میں امیر اور غریب کے بچوں کے لیے یکساں مواقع ہونے چاہئیں، امیر طبقے کے بچوں کو دنیا بھر کے بہترین تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کے مواقع میسر ہیں، غریب والدین بھی اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوانا چاہتے ہیں لیکن وسائل نہ ہونے کے باعث ایسا نہیں کر پاتے۔
وزیراعظم کا کہنا ہے کہ ایچی سن کالج میں غریب کا بچہ قدم بھی نہیں رکھ سکتا، اسی لیے حکومت نے دانش اسکولز قائم کیے تاکہ کم وسائل رکھنے والے خاندانوں کے بچوں کو بھی معیاری تعلیم کے مواقع فراہم کیے جاسکیں، پنجاب بھر میں دانش اسکولز کا جال پھیلایا گیا ہے، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور بلوچستان میں بھی دانش اسکول قائم کیے جارہے ہیں، جہاں بچوں کو مفت تعلیم فراہم کی جائے گی، دانش اسکولز میں تعلیم کا معیار کسی بھی اعلیٰ تعلیمی ادارے سے کم نہیں ہوگا۔
شہباز شریف نے بتایا کہ حکومت نے بجٹ میں تعلیم کے لیے خاطر خواہ رقم مختص کی ہے، گزشتہ سال میرٹ کی بنیاد پر پاکستان بھر سے طلبہ کو سرکاری اخراجات پر چین بھیجا گیا تاکہ وہ زراعت کے جدید شعبے میں تعلیم حاصل کرسکیں، جبکہ اب ایک ہزار بچوں کو آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تعلیم کے لیے سرکاری خرچ پر چین بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اسلام آباد میں دانش یونیورسٹی بھی قائم کی جارہی ہے، جہاں اگلے سال کلاسز کا آغاز ہوجائے گا، یونیورسٹی میں تکنیکی اور جدید علوم پر خصوصی توجہ دی جائے گی جبکہ داخلے میرٹ کی بنیاد پر ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ طلبہ کے پاس وسائل ہوں یا نہ ہوں انہیں بہترین تعلیم کے مواقع فراہم کیے جائیں گے، حکومت اب تک میرٹ کی بنیاد پر سات لاکھ بچوں میں لیپ ٹاپ تقسیم کرچکی ہے اور ان میں سے ایک بھی لیپ ٹاپ سفارش پر نہیں دیا گیا، رواں سال ملک بھر کے مزید ڈھائی لاکھ بچوں کو کروم بکس فراہم کی جائیں گی، تاہم اس پروگرام میں نجی اسکولوں کے طلبہ کو شامل نہیں کیا گیا، حکومت پر لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کے حوالے سے تنقید بھی کی گئی، تاہم لیپ ٹاپ محض ایک مشین نہیں بلکہ ایک مشن ہے کیونکہ اس کے ذریعے نوجوانوں کو جدید دنیا سے جڑنے اور باعزت روزگار حاصل کرنے کے مواقع مل رہے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ 1947ء میں پاکستان بزرگوں نے بنایا تھا لیکن 2047ء کا پاکستان نوجوان اپنی مرضی سے بنائیں گے، حکومت تعلیم، ہنرمندی، روزگار، کاروبار اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ان کے لیے مزید مواقع پیدا کرے گی، ملک کی مجموعی لیبر فورس میں خواتین کے لیے 35 فیصد کوٹا لازمی ہوگا، نوجوانوں کو روایتی ملازمتوں کے بجائے اپنا کاروبار شروع کرنے کی ترغیب دینے کے لیے اسٹارٹ اپس میں 10 فیصد کوٹا مختص کیا جائے گا، حکومت کا مقصد نوجوانوں کو صرف ملازمت کے متلاشی بنانے کے بجائے انہیں روزگار پیدا کرنے والے افراد میں تبدیل کرنا ہے تاکہ نوجوان اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر ملک کی معاشی ترقی میں مؤثر کردار ادا کرسکیں۔
