ٹک ٹاکر عائشہ شمشو کو کس نے قتل کیا؟ اہم انکشافات سامنے آگئے


ٹیکسلا(قدرت روزنامہ)ٹک ٹاکر شمشو بی بی بی عرف عائشہ کے قتل کے حوالے اہم تفصیلات سامنے آگئیں ، والد نے کوثر اور جاوید عرف شاہین نامی دو افراد پر اپنی بیٹی کے ساتھ مالی معاملات اور مبینہ دھمکیوں کا الزام عائد کیا۔
تفصیلات کے مطابق ٹک ٹاکر شمشو بی بی بی عرف عائشہ کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا، جبکہ حملے میں ان کی 15 سالہ بہن شدید زخمی ہوگئی۔ پولیس نے مقدمہ درج کرکے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات شروع کردی ہیں۔
پولیس شکایت میں بتایا گیا کہ 14 اگست کو شمشوبی بی بی کو کاشف عرف کاشی نامی شخص کی جانب سے مبینہ طور پر فون کال موصول ہوئی، جس میں اسے فوری طور پر گھر سے باہر آنے کو کہا گیا۔
جس کے بعد شمشوبی بی بی اپنی 15 سالہ بہن عاصمہ اور بھائی نعمت اللہ کے ہمراہ گاڑی میں گھر سے روانہ ہوئیں تو کچھ ہی دیر بعد پٹرول پمپ کے قریب موٹر سائیکل سوار دو نامعلوم افراد نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کردی۔


ایک گولی شمشوبی بی بی کی گردن میں لگی، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگئیں جبکہ فائرنگ کے بعد گاڑی بے قابو ہوکر دوسری گاڑی سے ٹکرا گئی، جس کے نتیجے میں ان کی 15 سالہ بہن عاصمہ بھی شدید زخمی ہوئی۔
شمشوبی بی بی کے والد فضل صاحبزادہ کی جانب سے بتایا گیا جب وہ ٹی ایچ کیو اسپتال ٹیکسلا پہنچے تو ان کی بیٹی کا جسدِ خاکی مردہ خانے میں موجود تھا، جہاں انہوں نے لاش کی شناخت کی۔
حملے میں محفوظ رہنے والے بھائی نعمت اللہ نے اہلِ خانہ کو بتایا کہ حملہ آوروں کی عمریں تقریباً 30 سے 35 سال کے درمیان معلوم ہوتی تھیں۔
خاندانی ذرائع نے کہا شمشوبی بی بی گزشتہ 3 سے 4 سال سے ٹک ٹاک پر ویڈیوز بنا رہی تھیں اور ان کے فالوورز کی تعداد تقریباً 13 لاکھ تک پہنچ چکی تھی، جبکہ ان کے اکاؤنٹ پر 3 کروڑ سے زائد لائکس بھی تھے تاہم ان کی موت کے بعد اہلِ خانہ نے ٹک ٹاک اکاؤنٹ ڈی ایکٹیویٹ کردیا۔
مقتولہ کے والد نے پولیس کو دی گئی درخواست میں قتل کی ممکنہ وجہ مالی تنازع کا بھی ذکر کیا ہے۔
انہوں نے کوثر اور جاوید عرف شاہین نامی دو افراد پر اپنی بیٹی کے ساتھ مالی معاملات اور مبینہ دھمکیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا شمشوبی بی بی نے ان افراد کے خلاف اسلام آباد میں پہلے بھی شکایت درج کرائی تھی۔
والد نے کاشف عرف کاشی کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں، جس نے مبینہ طور پر فائرنگ سے کچھ دیر قبل شمشوبی بی بی کو فون کیا تھا۔
مقتولہ کے والد نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ نامزد افراد قتل میں براہِ راست ملوث ہوسکتے ہیں یا انہوں نے مبینہ طور پر کسی اور کے ذریعے حملہ کرایا ہو۔
پولیس نے مقدمہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 302، 324، 109 اور 34 کے تحت درج کرلیا ہے۔
پولیس کی جانب تحقیقات اس فون کال کے گرد گھوم رہی ہے، جس کے بعد شمشوبی بی بی گھر سے باہر نکلی تھیں۔

WhatsApp
Get Alert