کراچی میں پشتون اور بلوچ تاجروں کو افغان مہاجر قرار دے کر ہراساں اور بلیک میل کرنے کا سلسلہ فوری بند کیا جائے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ

بلوچستان کے وسائل پر عوام کو بااختیار بنائے بغیر پائیدار امن ممکن نہیں، حقوق، روزگار اور تجارت کے لیے منظم تحریک کی ضرورت ہے


گوادر (ڈیلی قدرت کوئٹہ) امیر جماعت اسلامی بلوچستان و رکن بلوچستان اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے مطالبہ کیا ہے کہ کوئٹہ، کراچی سمیت بلوچستان کی تمام قومی شاہراہوں کو محفوظ بنایا جائے، جبکہ سکھر روٹ پر بلوچستان کے ٹرانسپورٹرز کے ساتھ سندھ پولیس کی مبینہ لوٹ مار اور ناروا سلوک کا فوری نوٹس لیا جائے۔گوادر میں مختلف وفود سے ملاقاتوں اور تقاریب سے خطاب کرتے ہوئے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ کراچی میں پشتون اور بلوچ تاجروں، ہوٹل مالکان، مزدور نوجوانوں اور دیگر کاروباری افراد کو بلاوجہ نقدی سے محروم کرنے، شناختی دستاویزات کے بہانے افغان مہاجر قرار دے کر ہراساں کرنے، مبینہ لوٹ مار اور تعصب کا نشانہ بنانے کا سلسلہ فوری بند کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام امن، بنیادی حقوق، ترقی اور خوشحالی سے محروم ہیں، ریاستی اداروں اور حکومتوں کو عوام کے مسائل کے حل کے لیے محض اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔مولانا ہدایت الرحمن نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کے امن، حقوق، روزگار، تجارت اور ترقی کے لیے ایک بڑی، منظم اور اجتماعی تحریک کی ضرورت ہے۔ اسلام آباد کے حکمرانوں اور طاقتور طبقات کو بلوچستان کی صورتحال کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے امن، ترقی، خوشحالی اور بنیادی حقوق کی فراہمی کے لیے فوری اور سنجیدہ اقدامات کرنا ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ بارڈرز کی بندش نے پہلے سے مشکلات میں گھرے عوام کی زندگی مزید اجیرن کردی ہے۔ سرحدی تجارت بلوچستان کی معیشت اور لاکھوں خاندانوں کے روزگار سے وابستہ ہے، اس لیے سرحدیں غیر ضروری طور پر بند رکھنے کے بجائے شفاف، محفوظ اور باعزت تجارتی نظام قائم کیا جائے۔امیر جماعت اسلامی بلوچستان نے کہا کہ قومی شاہراہوں پر مسافروں اور ٹرانسپورٹرز کو لوٹ مار، بھتہ خوری، غیر ضروری چیکنگ اور ہراسانی سے نجات دلانا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ کوئٹہ کراچی، کوئٹہ سکھر، کوئٹہ تفتان، کوئٹہ چمن اور دیگر اہم شاہراہوں پر مسافروں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ کراچی سمیت ملک کے کسی بھی شہر میں پشتون، بلوچ یا کسی بھی پاکستانی شہری کے ساتھ لسانی و علاقائی تعصب ناقابل قبول ہے۔ کسی شہری کو محض حلیے، زبان، قومیت یا شبہے کی بنیاد پر افغان مہاجر قرار دے کر تذلیل، گرفتاری، لوٹ مار یا کاروباری نقصان سے دوچار کرنا ظلم اور ناانصافی ہے۔مولانا ہدایت الرحمن نے کہا کہ بدعنوانی، بے روزگاری، غربت، منشیات، بدامنی اور جرائم میں اضافہ تشویشناک ہے۔ حکومت بلوچستان کے وسائل، معدنیات، ساحل، سرحدی تجارت اور دیگر ذرائع آمدن کو عوام کی فلاح و بہبود، تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی سہولیات پر خرچ کرے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام اب بڑے بڑے وعدوں اور دعوں کے بجائے جان و مال کے تحفظ، امن، عزت، روزگار اور بنیادی حقوق کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ گوادر سمیت بلوچستان کے دیگر علاقوں کے عوام کو ان کے وسائل پر بااختیار بنانے اور ترقی کے ثمرات میں حقیقی حصہ دیے بغیر پائیدار امن ممکن نہیں۔امیر جماعت اسلامی بلوچستان نے کہا کہ جماعت اسلامی بلوچستان کے عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور امن، آئینی حقوق، شفاف حکمرانی، کرپشن کے خاتمے، روزگار، محفوظ شاہراہوں، آزادانہ تجارت اور بلوچستان کے وسائل پر عوام کے حق کے لیے ہر آئینی، جمہوری اور پرامن فورم پر آواز بلند کرتی رہے گی۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ وفاقی و صوبائی حکومتیں مشترکہ حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے شاہراہوں کو محفوظ بنائیں، قانونی تجارت کو فروغ دیں، تاجروں اور ٹرانسپورٹرز کو تحفظ فراہم کریں اور عوام کے بنیادی حقوق یقینی بنائیں۔

WhatsApp
Get Alert