میرا ان ہاؤس تبدیلی پر فوکس نہیں ہے، چاہتا ہوں پارلیمان اپنا کردار ادا کرے

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ میرا ان ہاؤس تبدیلی پر فوکس نہیں ہے، چاہتا ہوں پارلیمان اپنا کردار ادا کرے، محسن نقوی نے سسٹم کے بارے بہت بھاری الفاظ استعمال کئے، وہ جس سسٹم میں ہیں اگراسے ناکام کہا ہے تو پھر الٹی گنتی والی بات بھی درست ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پارلیمان کو بہت سے خطرات ہوسکتے ہیں، میرا ان ہاؤس تبدیلی پر فوکس نہیں ہے، چاہتا ہوں پارلیمان اپنا کردار ادا کرے۔ حکومت کے وزرا اور اہم سیاستدانوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو ویلکم کیا، بہتر ہوتا کہ حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے سے پہلے خود قدم اٹھاتی۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ محسن نقوی سیاست میں زیادہ تجربہ نہیں رکھتے، انہوں نے سسٹم کے حوالے سے بہت بھاری الفاظ استعمال کیے، آئین ملک کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے جس کو متعدد بار توڑا گیا ہے، وہ جس سسٹم میں ہیں اگراسے ناکام کہا ہے تو پھر الٹی گنتی والی بات بھی درست ہے، اگر 1973 کے سسٹم کی بات کی تو اس نظام کو تو کبھی چلنے نہیں دیا گیا۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلزپارٹی عوام کے ساتھ کھڑی ہوگی اور عوام کی رائے سے جو فیصلہ کیا جائےگا، پیپلزپارٹی اس کا ساتھ دے گی، محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس سے ملاقاتیں ہوئی ہیں، اتحادیوں کے درمیان اتفاقِ رائے پیدا ہو رہا ہے۔ پیپلزپارٹی نے ہمیشہ پارلیمان کو عزت دی ہے اور چاہتی ہے کہ پارلیمان فعال ہو۔ بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی بعض جماعتوں نے پارلیمانی امور کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا تھا، پارلیمان کو فعال کرنے کے لیے قائمہ کمیٹیوں کو بھی فعال کرنا ضروری ہے۔
خواہش ہے کہ اپوزیشن جماعتیں قائمہ کمیٹیوں میں واپس آئیں اور امید ہے کہ وہ اپنے فیصلوں پر نظرثانی کریں گی۔ اپوزیشن، حکومتی وزرا اور اتحادی جماعتیں بھی سمجھتی ہیں کہ انتخابات ٹھیک نہیں ہوتے، اس لیے سب پر فرض ہے کہ انتخابی عمل کو بہتر بنایا جائے۔ سب کو مل کر الیکٹورل ریفارمز پر کام کرنا چاہیے۔
