عمران خان کے ساتھ مصر کے صدر ‘مرسی’ جیسا سلوک کیا جا رہا ہے، ملک میں کل سے ‘متحدہ اپوزیشن’ بنانے جا رہے ہیں: محمود خان اچکزئی
سپریم کورٹ کے احکامات کو رات کے اندھیرے میں 'کالی بھیڑوں' نے سبوتاژ کیا، 75 سالوں میں ہم ایک قوم نہیں بن سکے، ایوب، ضیاء اور مشرف کے مارشل لاء نے ملک کو کیا دیا؟ ہماری کسی سے ذاتی دشمنی نہیں، صرف آئین کی بالادستی نہ ماننے والوں کے خلاف ہیں: سربراہ تحریک تحفظ آئین پاکستان

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اور سینئر سیاستدان محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ساتھ جیل میں مصر کے سابق صدر محمد مرسی جیسا سلوک کیا جا رہا ہے، انہیں قید تنہائی میں رکھ کر اذیت دی جا رہی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے کل سے ایک ‘متحدہ اپوزیشن’ (United Opposition) بنانے کا عمل شروع کیا جا رہا ہے۔
دیگر سیاسی رہنماؤں کے ہمراہ ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے موجودہ ملکی حالات اور 2024 کے عام انتخابات پر کڑی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو جس انداز میں چلایا جا رہا ہے اور جس طرح عوامی مینڈیٹ کو روندا گیا ہے، وہ انتہائی افسوسناک ہے۔ ملک کی سب سے بڑی اور مقبول پارٹی سے اس کا انتخابی نشان چھین لیا گیا اور ان کے لیڈر کو قید کر دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو چلانے اور ایک بہترین وفاق بنانے کا واحد راستہ یہ ہے کہ پارلیمنٹ کو طاقت کا سرچشمہ مانا جائے؛ جو جیتے وہ حکومت کرے اور جو ہارے وہ اپوزیشن میں بیٹھے۔
محمود اچکزئی نے ملکی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 75 سالوں میں ہم بری طرح ناکام ہوئے ہیں اور ایک قوم نہیں بن سکے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایوب خان کے 10 سال، ضیاء الحق کے 11 سال اور پرویز مشرف کے 10 سالہ مارشل لاء نے اس ملک کو کیا دیا؟ آج صورتحال یہ ہے کہ ملک کے طول و عرض میں آگ لگی ہوئی ہے اور روزانہ 80 سے 90 انسان گولیوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔
بانی پی ٹی آئی کے طبی معائنے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ان تاریک حالات میں سپریم کورٹ سے امید کی ایک کرن نظر آئی تھی۔ عدالتِ عظمیٰ نے عمران خان کے طبی معائنے کا حکم دیا، جس پر تحریک انصاف نے بھرپور تعاون کا مظاہرہ کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اسپتال کے باہر کوئی کارکن نہیں آئے گا اور نہ ہی کوئی نعرے بازی ہوگی۔ لیکن بدقسمتی سے رات کے اندھیرے میں ‘کالی بھیڑوں’ نے اس پورے عمل کو سبوتاژ کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہر ادارے میں ایسی کالی بھیڑیں موجود ہیں جو نہیں چاہتیں کہ پاکستان جمہوریت کے راستے پر چلے۔
انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ عمران خان، جو کہ ملک کے سب سے مقبول لیڈر ہیں، انہیں جیل میں قید تنہائی کا نشانہ بنا کر بالکل ویسا ہی سلوک کیا جا رہا ہے جیسا مصر میں ڈاکٹر محمد مرسی کے ساتھ کیا گیا تھا۔ انہیں انسانوں سے دور رکھ کر ذہنی اذیت دی جا رہی ہے۔
اپنی پریس کانفرنس کے اختتام پر محمود خان اچکزئی نے واضح کیا کہ ہماری فوج، نواز شریف یا شہباز شریف سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے۔ ہماری مخالفت صرف ان قوتوں سے ہے جو پاکستان میں آئین کی بالادستی، آزاد عدلیہ اور غریب عوام کے حقوق کو تسلیم نہیں کرتیں۔ انہوں نے خوشخبری سناتے ہوئے کہا کہ کل سے جمہوریت پسند قوتوں کو یکجا کر کے ایک ‘متحدہ اپوزیشن’ بنانے جا رہے ہیں تاکہ فوج اور عوام کی جان اس عذاب سے چھڑائی جا سکے اور پاکستان پھلے پھولے۔
