بانی پی ٹی آئی کو رات کے اندھیرے میں نامعلوم اسپتال لے جانا اور بہن کو کمرے میں بند کرنا تشویشناک ہے، خدارا ملک کو خانہ جنگی کی طرف نہ دھکیلیں: محمود خان اچکزئی
سیاسی جماعتوں کے درمیان ڈائیلاگ کی اچھی فضا کو دانستہ خراب کیا جا رہا ہے، پی ٹی آئی نے ذمے داری کا مظاہرہ کیا مگر حکام نے سپریم کورٹ کے احکامات ہوا میں اڑا دیے، سرانان میں فائرنگ جیسے واقعات پر کوئی ایکشن نہیں ہو رہا، اپوزیشن لیڈر کا قومی اسمبلی میں خطاب، سوالیہ وقفہ معطل کرکے پی ٹی آئی ارکان کو بولنے کی اجازت دینے کا مطالبہ

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)اپوزیشن لیڈر اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے قومی اسمبلی میں ملکی صورتحال پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں سیاسی جماعتوں کے درمیان ڈائیلاگ کی جو ایک اچھی فضا بن رہی تھی، اسے جان بوجھ کر سبوتاژ کیا جا رہا ہے۔ بانی پی ٹی آئی کے ساتھ رات کے اندھیرے میں روا رکھے گئے سلوک اور ملک کے مختلف حصوں بالخصوص بلوچستان میں کشیدگی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے مقتدر حلقوں اور حکومت سے اپیل کی کہ خدارا اس ملک کو خانہ جنگی کی طرف نہ دھکیلیں۔
اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ پورا پاکستان عمران خان کی صحت کے حوالے سے سخت تشویش میں مبتلا تھا۔ جب سپریم کورٹ آف پاکستان نے انہیں الشفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تو پورے ملک، تحریک انصاف کے کارکنان اور ان کی فیملی میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ انہوں نے بتایا کہ تحریک انصاف نے ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے کارکنوں کو اسپتال جانے، جلوس نکالنے اور کسی بھی قسم کے ہنگامے سے سختی سے منع کر دیا تھا۔
اپوزیشن لیڈر نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان تمام مثبت اقدامات کے باوجود، رات کی تاریکی میں عمران خان کو الشفا کے بجائے کسی اور اسپتال (پمز) لے جایا گیا اور وہاں ان کی بہن اور دیگر افراد کو ایک کمرے میں بند کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات سے عوام میں اشتعال پیدا ہوتا ہے اور ملک کا سیاسی ماحول خراب ہوتا ہے۔
انہوں نے ایوان کی توجہ بلوچستان کی بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال کی جانب مبذول کرواتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ سے محض 17 میل دور ‘سرانان’ کے بازار میں فائرنگ اور کشیدگی کے واقعات ہو رہے ہیں، مگر حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا تو حالات کسی کے کنٹرول میں نہیں رہیں گے۔
محمود خان اچکزئی نے اپنی تقریر کے اختتام پر اسپیکر قومی اسمبلی سے پرزور اپیل کی کہ اگرچہ ایوان میں ‘سوالیہ وقفہ’ (Question Hour) کی قانونی اہمیت ہے، لیکن موجودہ ملکی اور سیاسی صورتحال اس سے کہیں زیادہ سنگین اور حساس ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سوالیہ وقفے کو فوری طور پر موخر کر کے اس اہم ترین قومی مسئلے پر تحریک انصاف کے ارکان کو بات کرنے کا بھرپور موقع دیا جائے تاکہ اصل حقائق قوم کے سامنے آ سکیں۔
