نادرا کی پاک آئی ڈی کے ذریعے پہلی بار شناختی کارڈ بنوانے کی سہولت سے متعلق اہم وضاحت

کراچی(قدرت روزنامہ) نیشنل ڈیٹابیس رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے پاک آئی ڈی موبائل ایپ کے ذریعے پہلی بار شناختی کارڈ بنوانے کی سہولت سے متعلق اہم وضاحت جاری کر دی۔

ترجمان نادرا کی جانب سے جاری بیان میں واضح کیا گیا کہ پاک آئی ڈی موبائل ایپ کے ذریعے ب فارم یا چائلڈ رجسٹریشن سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر پہلی بار شناختی کارڈ بنوانے کی سہولت ختم نہیں کی گئی، یہ سہولت اب بھی ان افراد کیلیے دستیاب ہے جن کا مطلوبہ بائیومیٹرک ریکارڈ نادرا کے پاس پہلے سے موجود ہو۔

بیان میں کہا گیا کہ شناختی کارڈ کے موجودہ قواعد کے تحت نادرا کیلیے لازم ہے کہ شناختی کارڈ جاری کرنے سے پہلے درخواست گزار کی مطلوبہ تصویر، انگلیوں کے نشانات اور آنکھ کی پتلی (آئرس) کا ریکارڈ حاصل اور محفوظ کرے، بہت سے پرانے ب فارم ایسے وقت میں بنے تھے جب بچوں سے یہ تمام بائیومیٹرکس حاصل نہیں کیے جاتے تھے، اس لیے ایسے افراد کا ریکارڈ نادرا کے پاس موجود تو ہوتا ہے لیکن شناختی کارڈ کے اجراء کیلیے درکار مکمل بائیومیٹرک معلومات دستیاب نہیں ہوتیں۔

ترجمان نادرا کے مطابق ایسی صورت میں پاک آئی ڈی درخواست کو مکمل طور پر آن لائن آگے نہیں بڑھا سکتا کیونکہ جو بائیومیٹرکس نادرا کے ریکارڈ میں موجود ہی نہ ہوں انہیں پہلی مرتبہ حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے، درخواست گزار کو اس مقصد کیلیے ایک مرتبہ نادرا رجسٹریشن سینٹر جا کر مطلوبہ بائیومیٹرکس فراہم کرنا ہوتے ہیں، شہری اپنی سہولت کیلیے نادرا رجسٹریشن سینٹر کا اپائنٹمنٹ بھی پاک آئی ڈی کے ذریعے حاصل کر سکتے ہیں۔

وضاحتی بیان میں مزید کہا گیا کہ جن افراد کی تصویر، انگلیوں کے نشانات اور آئرس کا مطلوبہ ریکارڈ پہلے ہی ان کے سی آر سی یا ب فارم کے ساتھ نادرا کے نظام میں موجود ہے وہ پاک آئی ڈی کے ذریعے شناختی کارڈ کیلیے درخواست دے سکتے ہیں، یہ مرحلہ شناختی کارڈ کے قواعد کی پابندی یقینی بنانے، قومی شناختی اور بائیومیٹرک ڈیٹا بیس کی سالمیت برقرار رکھنے اور جعلسازی یا کسی دوسرے فرد کی شناخت کے غلط استعمال کے امکانات کو کم کرنے کیلیے ضروری ہے۔

’بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی سہولت کے پیش نظر وہ بدستور پاک آئی ڈی کے ذریعے اپنے بچوں کے ب فارم سے نائیکوپ کی درخواست دے سکتے ہیں۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے درخواست ہے کہ وہ بیرون ملک میں موجود نادرا دفتر یا سفارتخانے میں موجود نادرا کاؤنٹر سے رابطہ کریں یا جب بھی وہ پاکستان آئیں تو اپنے بچوں کے بائیومیٹرک ریکارڈ کو پہلی فرصت میں اپڈیٹ کروائیں تاکہ بعد میں کسی پریشانی سے بچا جا سکے۔‘

WhatsApp
Get Alert