ایران پر امریکی پابندیوں کا پاکستان پابند نہیں، ایسی پابندیاں بین الاقوامی قوانین کے منافی ہیں، دفترخارجہ
تمام تر بین الاقوامی تنازعات اور تناؤ والے امور کو دھمکیوں یا اقتصادی پابندیوں کے بجائے صرف اور صرف بامعنی مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہئیے؛ ترجمان فارن آفس کی میڈیا بریفنگ

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف امریکہ کی جانب سے عائد کی جانے والی یکطرفہ اقتصادی پابندیوں کو ماننے یا ان پر عمل کرنے کا بالکل پابند نہیں ہے۔ اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے ترجمان دفترِ خارجہ طاہرحسین اندارابی نے کہا کہ پاکستان تہران پر واشنگٹن کی یکطرفہ پابندیوں کو بین الاقوامی قوانین کے عین مطابق نہیں سمجھتا، انہوں نے زور دے کر کہا کہ تمام تر بین الاقوامی تنازعات اور تناؤ والے امور کو دھمکیوں یا اقتصادی پابندیوں کے بجائے صرف اور صرف بامعنی مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہئیے۔
ترجمان دفترِ خارجہ کا یہ بیان امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ کے اس حالیہ اعلان کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے ایران کے خلاف نئی سخت ترین اقتصادی پابندیوں کی سیریز متعارف کروائی ہے۔
واضح رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران پر مسلسل معاشی اور سیاسی دباؤ بڑھا رہی ہے تاکہ تہران کو مطلوبہ سیاسی و معاشی مطالبات ماننے پر مجبور کیا جا سکے، تاہم پاکستان نے اپنے ہمسایہ ملک ایران سے متعلق اس یکطرفہ امریکی اقدام کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
