ایران اور افغانستان سے ٹماٹر اور زرعی اجناس کی مبینہ سمگلنگ، مقامی زمینداروں کو اربوں روپے کا نقصان

سرحدیں بند ہونے کے باوجود ٹماٹر کے درجنوں کنٹینرز کس کی سرپرستی میں کوئٹہ پہنچ رہے ہیں؟ زمیندار ایکشن کمیٹی کا سوال


غیر قانونی زرعی درآمدات کا فوری نوٹس لیا جائے، مقامی کسانوں کا معاشی تحفظ یقینی بنایا جائے: قلعہ سیف اللہ کے زمیندار
کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) بلوچستان کے معروف زمینداروں اور کسانوں نے صوبے میں ایران اور افغانستان سے سبزیوں، پھلوں اور بالخصوص ٹماٹروں کی مبینہ غیر قانونی آمد پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر سال جب بلوچستان میں مقامی فصلیں، پھل اور سبزیاں تیار ہوتی ہیں تو بیرونِ ملک سے ٹماٹر اور دیگر زرعی اجناس کی آمد سے مقامی منڈیوں کے نرخ شدید متاثر ہوتے ہیں، جس کے باعث صوبے کے ہزاروں کسانوں اور زمینداروں کو اربوں روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے افغانستان سے ٹماٹر اور دیگر فروٹ بارڈرز بند ہونے کے باوجود ضلعی انتظامیہ اور دیگر قانون نافذ کرنے والوں اداروں کی ملی بھگت سے یہاں پہنچ رہے ہیں اعلیٰ حکام بارڈرز پر غیر قانونی ٹریڈز کا نوٹس لیا جائے ‘ان خیالات کااظہار قلعہ سیف اللہ کے زمیندار ایکشن کمیٹی کے چیئرمین عبداللہ جان میرزئی‘معروف زمیندار حاجی مطیع اللہ میرزئی ،عبدالغنی کاکڑ اور دیگر نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا زمینداروں نے کہا کہ اس وقت پاک ایران اور پاک افغانستان کے اہم سرحدی راستوں، بالخصوص چمن اور بادینی کے راستوں کی صورتحال کے باوجود سوال یہ ہے کہ ٹماٹر کے درجنوں کنٹینرز اور ٹرالے بلوچستان کی منڈیوں تک کیسے پہنچ رہے ہیں؟ اگر سرحدی راستوں پر پابندیاں اور نگرانی موجود ہے تو پھر بڑے پیمانے پر سبزیوں، ٹماٹروں، انگور اور دیگر اجناس کی مبینہ غیر قانونی نقل و حمل کس کی سرپرستی میں جاری ہے؟ انہوں نے کہا کہ دن دیہاڑے غیر قانونی طریقے سے آنے والا مال بلوچستان کی مختلف منڈیوں میں پہنچایا جا رہا ہے، جس سے مقامی پیداوار کی قیمتیں گر رہی ہیں اور کسانوں کی محنت، سرمایہ اور سال بھر کی امیدیں تباہ ہو رہی ہیں۔ بلوچستان کے زمیندار پہلے ہی پانی کی قلت، بجلی کے مسائل، مہنگی کھاد، بیج، ادویات اور زرعی اخراجات سے شدید مشکلات کا شکار ہیں، ایسے میں غیر قانونی درآمدات ان کے لیے مزید تباہ کن ثابت ہو رہی ہیں۔ معروف زمینداروں نے کہا کہ حکومت اور متعلقہ اداروں کو فوری طور پر اس معاملے کی شفاف تحقیقات کرنی چاہئیں اور یہ معلوم کیا جائے کہ سرحدی پابندیوں کے باوجود ٹماٹر سے بھرے درجنوں ٹرالے اور کنٹینرز بلوچستان کی منڈیوں تک کس راستے اور کن ذرائع سے پہنچ رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مبینہ اسمگلنگ میں ملوث عناصر اور کسی بھی سرکاری اہلکار کی سرپرستی یا غفلت ثابت ہونے کی صورت میں ان کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔ زمینداروں نے ضلعی انتظامیہ، کسٹمز، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور متعلقہ محکموں سے بھی مطالبہ کیا کہ مقامی کسانوں کے معاشی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ زمینداروں نے کہا کہ بلوچستان کے کسانوں کو غیر قانونی درآمدات اور اسمگلنگ کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ حکومت فوری طور پر سرحدی نگرانی سخت کرے، مقامی فصلوں کی کٹائی اور مارکیٹ میں آمد کے موسم کے دوران غیر ضروری اور غیر قانونی زرعی اجناس کی آمد روکے اور کسانوں کو ان کی محنت کا مناسب معاوضہ دلانے کے لیے مؤثر پالیسی بنائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سرحدیں بند ہیں تو ٹماٹر کے درجنوں کنٹینرز کہاں سے اور کس کی نگرانی میں بلوچستان پہنچ رہے ہیں؟ حکومت اس سوال کا فوری جواب دے اور بلوچستان کے کسانوں کو اربوں روپے کے مزید نقصان سے بچائے۔

WhatsApp
Get Alert