مودی نے پہلے جنگ کے میدان میں، اب بین الاقوامی عدالت میں بھارت کو ذلیل کروا دیا، خواجہ آصف

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کا کہنا ہے مستقل ثالثی عدالت نے سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے بھارت کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ بھارت کی جانب سے معاہدے کو ’التوا میں رکھنے‘ کا فیصلہ معاہدے یا بین الاقوامی قانون کے تحت قابلِ قبول نہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ’’ایکس‘‘ پر اپنے بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ مستقل ثالثی عدالت نے متفقہ طور پر قرار دیا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ نہ تو ختم ہوا ہے اور نہ ہی معطل، بلکہ یہ مکمل طور پر نافذ العمل ہے اور بھارت معاہدے کی تمام ذمہ داریاں پوری کرنے کا پابند ہے۔عدالت نے خودمختاری، مبینہ معاہدہ شکنی، دہشت گردی کے الزامات، حالات میں بنیادی تبدیلی، مسلح تنازع اور جوابی اقدامات سمیت معاہدے کی معطلی یا خاتمے کے ممکنہ جواز کا جائزہ لیا، تاہم بھارت کے کسی بھی مؤقف کو معاہدے کی معطلی یا خاتمے کے لیے قابلِ قبول قرار نہیں دیا گیا۔
خواجہ آصف کے مطابق عدالت نے دہشت گردی سے متعلق بھارتی الزامات پر بھی واضح کیا کہ اگر تجزیے کی حد تک ان الزامات کو درست مان بھی لیا جائے تو اس سے سندھ طاس معاہدے کی کسی بنیادی خلاف ورزی کا جواز پیدا نہیں ہوتا۔سندھ طاس معاہدے کی اپنی شرائط کے مطابق یہ اس وقت تک نافذ العمل رہے گا جب تک پاکستان اور بھارت باہمی طور پر کسی نئے معاہدے کے ذریعے اسے تبدیل یا ختم نہ کریں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ گزشتہ سال جنگ کے محاذ پر بھارت کی عبرتناک شکست کے بعد اب مستقل ثالثی عدالت میں بھی بھارت کو ایک اور دھچکا لگا ہے اور سندھ طاس معاہدے پر پاکستان کا مؤقف درست ثابت ہوگیا ہے۔بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر ’التوا میں رکھنے‘ کا اقدام بین الاقوامی قانون کے مطابق قابلِ قبول نہیں، جبکہ عدالت کے فیصلے نے پاکستان کے مؤقف کی واضح تائید کردی ہے۔
خواجہ آصف نے اپنے بیان کا اختتام کرتے ہوئے کہا مودی نے پہلے جنگ کے میدان میں، اب بین الاقوامی عدالت میں بھارت کو ذلیل کروا دیا ہے۔
