ایران جنگ کے معاشی اثرات؛ سعودی عرب نے 8 ارب ڈالر قرض کیلئے ابتدائی بات چیت شروع کردی

ریاض (قدرت روزنامہ) ایران جنگ کے منفی مالی معاشی اثرات کے دباؤ سے نمٹنے کیلئے سعودی عرب نے 8 ارب ڈالر قرض کیلئے ابتدائی طور پر بات چیت شروع کردی ہے۔ بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق ایران جنگ کے نتیجے میں سعودی عرب میں معاشی اثرات کے باعث مالی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث سعودی عرب نے اپنے مالی وسائل کو مستحکم بنانے کیلئے کوششیں تیز کردی ہے۔
اس مقصد کیلئے سعودی عرب کم از کم 8 ارب ڈالر کے نئے قرض لے گا۔ سعودی عرب نے نئے قرض کیلئے ابتدائی بات چیت شروع کردی ہے۔ بلومبرگ ذرائع کے مطابق سعودی عرب کے نیشنل ڈیبٹ مینجمنٹ سینٹر نے ممکنہ قرض کے معاہدے کے لیے بینکوں سے رابطے شروع کر دیے ہیں۔ ذرائع نے نجی معلومات پر گفتگو کرتے ہوئے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر یہ بات بتائی۔
ذرائع نے بتایا کہ ریاستی سرپرستی میں کام کرنے والی سعودی تیل کمپنی سعودی آرامکو بھی بینکوں کے ساتھ اسی نوعیت کے مذاکرات کر رہی ہے۔ دونوں ممکنہ قرض کے معاملات ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں اور ممکن ہے کہ بالآخر ان میں سے کوئی بھی معاہدہ طے نہ پائے۔ دوسری جانب سعودی وزارتِ خزانہ کے تحت کام کرنے والے نیشنل ڈیبٹ مینجمنٹ سینٹر کے نمائندے تبصرے کے لیے دستیاب نہیں تھے، جبکہ آرامکو نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔
سعودی عرب کی جانب سے قرض کے حصول کی یہ کوششیں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب مملکت اور دیگر خلیجی ممالک علاقائی جنگ کے معاشی اثرات سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جنگ کے باعث آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارت مسلسل متاثر ہو رہی ہے، درآمدی اخراجات بڑھ رہے ہیں اور سپلائی چینز پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
