صوبائی وزیر پر حملے کو جواز بنا کر نقل مکانی کی دھمکی قابل مذمت ہے، ڈاکٹر عائشہ فیض


کوئٹہ (قدرت روزنامہ)مستونگ کی رہائشی ڈاکٹر عائشہ فیض نے حکومت کی جانب سے صوبائی وزیر داخلہ پر حملے کو جواز بنا کر باغات کو کاٹنے اور لوگوں کو نقل مکانی پر مجبور کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے لوگوں کی مشکلات بڑھیں گی اور ان میں ریاست کے خلاف نفرت میں اضافہ ہوگا۔ یہ بات انہوں نے سوموار کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کہی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت بلوچستان حالت جنگ میں ہے۔ حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ لوگوں کے مسائل حل کرے لیکن حکومت کی جانب سے صوبائی وزیر داخلہ کے قافلے پر حملے کو جواز بنا کر علاقے میں باغات کو کاٹنے اور لوگوں کو علاقے سے نقل مکانی کرنے کا بیان دیگر لوگوں کے زخموں پر نمک پاشی کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مزاحمتی تنظیموں نے تمام کاروباری حضرات، ٹائگر برادری اور ٹرانسپورٹرز کو جن علاقوں اور راستوں سے سفر سے منع کیا ہے انہیں اس پر عمل کرنا چاہئے تاکہ ان کی جانیں اور مال محفوظ رہ سکے۔
انہوں نے کہا کہ میرے خاندان کے لوگوں نے ریاست قلات کے الحاق کے خلاف جیل قیدوبندی، صعوبتیں برداشت کر کے اس وقت فیصلے کی مخالفت کی تھی 1920ء سے دو تعلیم یافتہ نوجوانوں میرے والد ملک فیض محمد یوسفزئی، میر عبدالعزیز کو نے الحاق کے خدشے کے خلاف تحریک انجمن اتحاد بلوچان کی بنیاد رکھ کر جدوجہد کا آغاز کیا ان کی تحریک میں بلوچستان کی قدر آور شخصیات میر یوسف عزیز گلگی سمیت دیگر نے شمولیت کی اور الحاق کے خلاف آواز بلند کی جس کی پاداش میں ان پر پابندی لگائی گئی۔
بلوچستان میں شورش آج کی نہیں بلکہ کئی سالوں پر محیط ہے۔ اگر ٹھوکوچے کے لوگوں کو بے دخل اور ان کے باغات کو کاٹا گیا تو علاقہ کے مرد اور عورتیں مزاحمت پر مجبور ہوں گی جس سے حالات کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔ اور اپنے علاقے سے کسی صورت نقل مکانی اور اپنے باغات کو کاٹنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

WhatsApp
Get Alert