تماشا دیکھیں! جو لوگ 40 سالوں میں اپنی پارٹی میں جمہوریت نہیں لاسکے

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) عوام راج تحریک کے سربراہ اقرارالحسن کا کہنا ہے کہ تماشا دیکھیں! جو لوگ 40 سالوں میں اپنی پارٹی میں جمہوریت نہیں لاسکے۔ ایکس پر اپنے ٹویٹ میں ان کا کہنا ہے کہ تماشا دیکھیں !! جو لوگ تیس تیس، چالیس چالیس سال میں اپنی پارٹی میں جمہوریت نہیں لا سکے وہ بھی کہتے ہیں کہ ہم ملک میں جمہوریت کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔
یاد رکھیں صرف وہی پارٹی میں جمہوریت اور میرٹ لا سکتا ہے جو خود کسی عہدے پر قابض نہ ہو یا خود کسی عہدے کا امیدوار نہ ہو۔دوسری جانب سربراہ جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ملک کو درپیش سیاسی، معاشی، آئینی اور انتظامی بحرانوں کا واحد حل آئین کی بالادستی، حقیقی جمہوریت، پارلیمنٹ کی بالادستی، صوبائی خودمختاری اور عوامی مسائل کے عملی حل میں ہے۔
ریاستی اور حکومتی امور کو آئینی حدود کے اندر چلائے بغیر ملک میں پائیدار سیاسی استحکام قائم نہیں ہوسکتا، جبکہ سیاسی اختلافات اور قومی مسائل کا حل محض طاقت کے استعمال کے بجائے تمام فریقوں کے درمیان سنجیدہ مکالمے اور مشاورت سے تلاش کرنا ہوگا۔ وہ جامعہ اسلامیہ، دودائی روڈ لاڑکانہ میں منعقدہ جمعیت علماء اسلام صوبہ سندھ کی صوبائی مجلس عاملہ اور امن عالم اجتماع 2027 کی منتظمہ کمیٹیوں کے مشترکہ اجلاس سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کر رہے تھے۔
بعد ازاں لاڑکانہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ نئے صوبوں اور صوبوں کی تقسیم کا سوال پہلے بھی سامنے آتا رہا ہے اور دنیا کے مختلف ممالک میں نئے صوبے تشکیل پاتے ہیں، تاہم پاکستان میں اس وقت نہ اس حوالے سے مناسب ماحول موجود ہے اور نہ ہی ضروری تیاری کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ماحول سازگار نہ ہو اور معاملات کی مکمل تیاری نہ کی جائے تو ایسے فیصلے تباہی کا باعث بن سکتے ہیں۔ 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو ملنے والے اختیارات اور وسائل پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
