سونے کی قیمت نے پھر اڑان بھر لی، بڑی وجہ سامنے آگئی

کراچی (قدرت روزنامہ)عالمی منڈی میں منگل کے روز سونے کی قیمت میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کی بڑی وجہ امریکی ڈالر کی قدر میں کمی اور رواں ہفتے جاری ہونے والے امریکی افراطِ زر کے اہم اعدادوشمار سے قبل سرمایہ کاروں کی محتاط پوزیشننگ کو قرار دیا جارہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.6 فیصد اضافے کے بعد 4,429.89 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی جبکہ دسمبر کے لیے امریکی گولڈ فیوچرز معمولی تبدیلی کے ساتھ 4,475.10 ڈالر فی اونس پر رہے۔
دوسری جانب امریکی ڈالر انڈیکس میں 0.4 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ڈالر کی قدر میں کمی عموماً عالمی منڈی میں سونے سمیت ڈالر میں قیمت والے کموڈیٹیز کو دیگر کرنسیوں میں خریداری کرنے والے سرمایہ کاروں کے لیے نسبتاً سستا بنا دیتی ہے، جس سے ان کی طلب میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
امریکی مہنگائی کے اعدادوشمار اہم کیوں؟
عالمی مالیاتی منڈیوں کی نظریں اس وقت امریکا میں جاری ہونے والے مہنگائی کے اعدادوشمار پر مرکوز ہیں، کیونکہ ان سے امریکی فیڈرل ریزرو کی آئندہ مانیٹری پالیسی کے حوالے سے سرمایہ کاروں کی توقعات متاثر ہوسکتی ہیں۔
امریکی پروڈیوسر پرائس انڈیکس (PPI) کے اعدادوشمار جمعرات کو جاری کیے جائیں گے، جبکہ کنزیومر پرائس انڈیکس (CPI) کے اعدادوشمار جمعہ کو سامنے آئیں گے۔
یہ اعدادوشمار اس بات کا اندازہ لگانے میں مدد دیں گے کہ امریکا میں مہنگائی کا دباؤ کس سمت میں جارہا ہے۔ اگر مہنگائی میں کمی کے اشارے ملتے ہیں تو سرمایہ کار فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں نرمی کی توقع کرسکتے ہیں، جبکہ بلند افراطِ زر شرح سود میں کمی کے امکانات کو محدود کرسکتا ہے۔
شرح سود، ڈالر اور سونے کی قیمت کے درمیان گہرا تعلق ہے۔ عام طور پر شرح سود میں کمی یا اس کے امکانات سونے کے لیے مثبت سمجھے جاتے ہیں، کیونکہ کم شرح سود کے ماحول میں غیر منافع بخش اثاثے یعنی سونا نسبتاً زیادہ پرکشش ہوجاتا ہے۔
گزشتہ دو سیشنز میں سونا سستا ہوا تھا
رپورٹ کے مطابق عالمی منڈی میں گزشتہ دو سیشنز کے دوران سونے کی قیمت میں کمی ہوئی تھی۔ اس کی ایک اہم وجہ امریکا کے روزگار کے حوالے سے سامنے آنے والے بہتر اعدادوشمار تھے۔
اگست میں امریکی روزگار میں نمایاں بہتری ریکارڈ کی گئی جبکہ بے روزگاری کی شرح 4.1 فیصد پر برقرار رہی۔ مضبوط روزگار کے اعدادوشمار نے امریکی معیشت کی صورتحال کے بارے میں مثبت تاثر پیدا کیا، جس کے باعث سرمایہ کاروں کی جانب سے امریکی شرح سود کے حوالے سے توقعات بھی متاثر ہوئیں اور سونے کی قیمت پر دباؤ آیا۔
تاہم منگل کو ڈالر کی قدر میں کمی اور امریکی مہنگائی کے آئندہ اعدادوشمار سے قبل سرمایہ کاروں کی جانب سے سونے میں دوبارہ دلچسپی دیکھی گئی۔
مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی بھی سونے کو سہارا دے رہی ہے
عالمی سطح پر جاری جغرافیائی سیاسی کشیدگی بھی سونے کی قیمتوں کے لیے اہم عنصر بن گئی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی سرمایہ کاروں میں غیر یقینی صورتحال پیدا کردی ہے۔
ایران کی جانب سے امریکا کو ’اقتصادی جنگ‘ کی دھمکی اور امریکی جنگی بحری جہازوں کے حوالے سے جدید میزائل داغنے کے دعووں کے بعد خطے میں مزید کشیدگی بڑھنے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔
ایسی صورتحال میں سونا روایتی طور پر ایک محفوظ سرمایہ کاری یعنی Safe Haven Asset کے طور پر سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کرتا ہے۔ عالمی سطح پر سیاسی یا معاشی غیر یقینی میں اضافے کے دوران سرمایہ کار اپنے سرمائے کے تحفظ کے لیے سونے کی طرف رخ کرسکتے ہیں، جس سے اس کی قیمت کو سہارا ملتا ہے۔
دیگر قیمتی دھاتیں بھی مہنگی
سونے کے علاوہ دیگر قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں بھی منگل کو اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
چاندی کی قیمت ایک فیصد اضافے کے بعد 66.78 ڈالر فی اونس ہوگئی، جبکہ پلاٹینم 0.4 فیصد اضافے کے بعد 1,834 ڈالر فی اونس پر پہنچ گیا۔
اسی طرح پیلیڈیم کی قیمت میں بھی ایک فیصد اضافہ ہوا اور یہ 1,402.87 ڈالر فی اونس تک پہنچ گیا۔
سونے کی قیمت کا اگلا رخ کن عوامل پر منحصر ہوگا؟
ماہرین اور سرمایہ کاروں کی توجہ اب بنیادی طور پر تین عوامل پر ہے: امریکی افراطِ زر کے اعدادوشمار، امریکی ڈالر کی سمت اور فیڈرل ریزرو کی آئندہ شرح سود سے متعلق پالیسی۔
اگر امریکی مہنگائی کے اعدادوشمار توقعات سے کم آتے ہیں اور شرح سود میں کمی کے امکانات بڑھتے ہیں تو سونے کی قیمت کو مزید سہارا مل سکتا ہے۔ اس کے برعکس اگر مہنگائی توقعات سے زیادہ مضبوط رہتی ہے اور شرح سود بلند رکھنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں تو ڈالر مضبوط ہوسکتا ہے، جس سے سونے کی قیمت پر دباؤ آنے کا امکان ہوگا۔
اس کے ساتھ ساتھ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال بھی عالمی گولڈ مارکیٹ کے لیے اہم رہے گی۔ خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کی صورت میں محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر سونے کی طلب میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
