روزانہ قیمتوں کا تجربہ مہنگا پڑ گیا، پیٹرول میں اب تک کتنا اضافہ؟

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)حکومت کی جانب سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے اثرات فوری طور پر صارفین تک منتقل کرنے کے لیے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں روزانہ بنیادوں پر مقرر کرنے کے فیصلے کے بعد پٹرول کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے۔ 8 ستمبر کو پٹرول کی قیمت میں 12 روپے 90 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا، جس کے بعد نئی قیمت 358 روپے 77 پیسے فی لیٹر ہوگئی۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل بھی 3 روپے 72 پیسے مہنگا ہوکر 381 روپے 77 پیسے فی لیٹر ہوگیا۔
روزانہ قیمتوں کے نئے نظام کے تحت 22 جولائی سے 8 ستمبر تک پٹرول کی قیمت میں مجموعی طور پر 38 روپے 4 پیسے فی لیٹر اضافہ ہوچکا ہے۔ 22 جولائی کو پٹرول 320 روپے 73 پیسے فی لیٹر تھا جو اب 358 روپے 77 پیسے تک پہنچ گیا ہے۔
اسی عرصے کے دوران ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 14 روپے 56 پیسے فی لیٹر اضافہ ہوا۔ 22 جولائی کو ڈیزل 367 روپے 21 پیسے فی لیٹر تھا، جبکہ اب اس کی قیمت 381 روپے 77 پیسے ہوگئی ہے۔
روزانہ قیمتوں کا فیصلہ کیوں کیا گیا؟
حکومت نے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ اور مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں روزانہ بنیادوں پر تبدیل کرنے کا نظام متعارف کرایا تھا۔ اس سے قبل پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر عموماً ماہانہ یا پندرہ روزہ بنیادوں پر نظرثانی کی جاتی تھی۔ پٹرولیم وزیر علی پرویز ملک نے جولائی میں اعلان کیا تھا کہ عالمی مارکیٹ میں تیزی سے بدلتی صورتحال کے باعث قیمتوں کا روزانہ جائزہ لیا جائے گا۔

نئے نظام کا مقصد عالمی قیمتوں میں ہونے والی تبدیلی کو زیادہ تیزی سے مقامی مارکیٹ تک منتقل کرنا ہے۔ تاہم اس طریقہ کار کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہونے کی صورت میں اس کا اثر بھی صارفین تک نسبتاً جلد پہنچ رہا ہے۔
چند ہفتوں میں قیمت میں مسلسل اتار چڑھاؤ
اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ جولائی کے آخر اور اگست کے دوران بھی پٹرول کی قیمت مسلسل تبدیل ہوتی رہی۔ 22 جولائی کو پٹرول 320 روپے 73 پیسے تھا، جبکہ ستمبر کے آغاز تک قیمت 342 روپے سے تجاوز کرچکی تھی۔
ستمبر میں بھی قیمت میں کئی بار تبدیلی ہوئی۔ یکم ستمبر کو پٹرول 342 روپے 79 پیسے فی لیٹر تھا، 2 ستمبر کو یہ 343 روپے 87 پیسے، 3 ستمبر کو 346 روپے 16 پیسے اور 4 ستمبر کو 349 روپے تک پہنچ گیا۔ 5 ستمبر کو پٹرول کی قیمت میں 3 روپے 13 پیسے کمی ہوئی اور قیمت 345 روپے 87 پیسے ہوگئی، تاہم 8 ستمبر کو ایک ہی دن میں 12 روپے 90 پیسے کے بڑے اضافے نے قیمت کو 358 روپے 77 پیسے تک پہنچا دیا۔
ڈیزل بھی مہنگائی کی زد میں
پٹرول کے ساتھ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ 8 ستمبر کو ڈیزل کی قیمت 3 روپے 72 پیسے بڑھائی گئی، جس کے بعد یہ 381 روپے 77 پیسے فی لیٹر ہوگئی۔
ڈیزل کی قیمت میں اضافہ خاص طور پر ٹرانسپورٹ اور مال برداری کے اخراجات پر اثر انداز ہوسکتا ہے، کیونکہ ٹرک، بسیں، زرعی مشینری اور دیگر بھاری گاڑیوں میں ڈیزل بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے۔
پٹرولیم لیوی بھی برقرار
تازہ اضافے کے باوجود پٹرول اور ڈیزل پر 80، 80 روپے فی لیٹر پٹرولیم لیوی برقرار ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی مجموعی قیمت میں عالمی درآمدی لاگت کے علاوہ مختلف ٹیکسز، لیویز، ڈیلر اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے مارجن اور دیگر اخراجات بھی شامل ہوتے ہیں۔ تازہ نوٹیفکیشن کے حوالے سے دستیاب تفصیلات کے مطابق پٹرول کی قیمت میں اضافے کی بڑی وجہ درآمدی/ریفائنری قیمت میں اضافہ بھی ہے۔
عالمی مارکیٹ کا دباؤ برقرار
پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر اس وقت عالمی خام تیل کی قیمتوں کا براہ راست دباؤ بھی موجود ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی، مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خدشات اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات نے عالمی مارکیٹ میں قیمتیں بڑھا دی ہیں، جس کے اثرات پاکستان جیسے درآمدی تیل پر انحصار کرنے والے ملک پر بھی پڑ رہے ہیں۔
یوں روزانہ قیمتوں کا نیا نظام ایک طرف عالمی منڈی کی تبدیلیوں کو فوری طور پر مقامی قیمتوں میں منتقل کررہا ہے، تو دوسری طرف عالمی تیل کی قیمتوں میں مسلسل تیزی نے پاکستانی صارفین کے لیے پٹرول کے اخراجات میں نمایاں اضافہ کردیا ہے

WhatsApp
Get Alert