عمران خان کے ٹیسٹ اور علاج؛ شفا انٹرنیشنل ہسپتال سے متعلق جنید سلیم نے نئے انکشافات کردیئے

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) معروف صحافی اور تجزیہ کار جنید سلیم نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ہسپتال میں تشخیصی عمل، اسلام آباد میں جاری شدید سیاسی بے چینی اور مقتدرہ کے سابقہ سیاسی بندوبست پر ایک تفصیلی تجزیہ پیش کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق اپنے وی لاگ میں جنید سلیم نے شفاء انٹرنیشنل ہسپتال کے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے عمران خان کے طبی معائنے اور تشخیصی عمل سے متعلق انکشافات کیے، ان کا کہنا تھا کہ شفاء انٹرنیشنل کا وہ مخصوص اسٹاف جس کا تعلق عمران خان کے ٹیسٹ، تشخیص اور علاج سے ہے بشمول ڈاکٹرز، پیرامیڈیکس اور ٹیکنیکل اسٹاف انہیں گزشتہ چار روز سے گھر جانے کی اجازت نہیں دی گئی اور وہ ہسپتال میں ہی موجود ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ نیوکلیئر میڈیسن سے تشخیص کے لیے استعمال ہونے والے گیما کیمرے کی یا تو نئی تنصیب کی جا رہی ہے یا پرانے کیمرے کی اوور ہالنگ جاری ہے کیونکہ عمران خان کی زیادہ تر تشخیص اور علاج اسی گیما کیمرے کے ذریعے مکمل کی جائے گی، وفاقی دارالحکومت میں اس وقت بے چینی، پریشانی کے آثار نمایاں ہیں جہاں نئی صف بندی سے قبل کڑے فیصلے لیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے صوبوں کے تنازعہ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف پیپلز پارٹی نئے صوبوں کی مخالفت میں کھلی اور واضح پوزیشن لے چکی ہے جبکہ دوسری طرف ن لیگ نئے صوبوں کے خلاف ہونے کے باوجود بولنے کی جرات نہیں رکھتی اور اس نے خود کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ رکھا ہے، حالات ن لیگ کے لیے بالکل ٹھیک نہیں اور یوں کہہ لیں کہ ان کی حالت پتلی ہے۔
ملکی سیاسی استحکام پر کھل کر بات کرتے ہوئے جنید سلیم نے واضح کیا کہ جب تک عمران خان جیل میں ہیں اور اپنے مؤقف پر قائم ہیں، تب تک کوئی بھی سیاسی یا غیر سیاسی فارمولا کامیاب نہیں ہو سکتا، عمران خان کے بغیر اب چاہیں برطانیہ کا سسٹم لے آئیں یا امریکہ کا، لندن پلان بنالیں یا پیرس معاہدہ کرلیں کچھ نہیں بدلنے والا، جب تک ملک کی 90 فیصد آبادی کو ملکی معاملات میں اسٹیک ہولڈر نہیں بنایا جاتا، تب تک نہ کوئی سسٹم چلے گا اور نہ ملک آگے بڑھے گا۔
عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے چار سال بعد کی صورتحال کا احاطہ کرتے ہوئے جنید سلیم نے کہا کہ مقتدرہ کو شاید اب اس بات کا شدید احساس ہو رہا ہے کہ عمران خان کو سیاسی منظرنامے سے ہٹانے کے لیے جو بندوبست تیار کیا گیا تھا وہ ایک سنگین غلطی تھی، تمام سیاسی مہروں کو عمران خان کے خلاف ایک جگہ اکٹھا کرکے ظلم کے حربے آزمائے گئے اور سوچا گیا کہ وہ چند ہفتوں میں ختم ہو جائیں گے مگر آج عمران خان کے علاوہ ملک میں ایسی کوئی سیاسی قوت بچی ہی نہیں جس کے حوالے یہ ملک کیا جا سکے۔
