امراض قلب تیزی سے پھیلنے کی ایک اہم اور عام وجہ دریافت


اسلام آباد (قدرت روزنامہ)گزشتہ چند برسوں سے طبی ماہرین کی جانب سے یہ جائزہ لیا جا رہا ہے کہ رات کو گھروں اور دیگر مقامات کو روشن کرنے کے لیے استعمال ہونے والی لائٹس سے لوگوں کی صحت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
مثال کے طور پر نومبر 2022 کی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ باہر لگائی جانے والی مصنوعی روشنیوں میں زیادہ وقت گزارنے سے ذیابیطس سے متاثر ہونے کا خطرہ بڑھتا ہے۔
مارچ 2023 کی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ رات کو سونے کے دوران کسی بھی قسم کی روشنی کے استعمال سے بڑھاپے میں ذیابیطس، موٹاپے اور ہائی بلڈ پریشر جیسے امراض کا خطرہ بڑھتا ہے۔
اب ایک نئی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ رات کے وقت مکمل تاریکی کرکے نہ سونے سے امراض قلب سے متاثر ہونے کا خطرہ بڑھتا ہے۔
امریکا کی Tulane یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ رات کے وقت روشنی کرکے سونے سے دل کی ساخت اور افعال پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
اس تحقیق میں 11 ہزار سے زائد افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا جو کہ یوکے بائیو بینک سے حاصل کیا گیا تھا۔
ان افراد کو 7 دن تک کلائی پر لائٹ سنسر پہنا کر رکھا گیا جس سے محققین کو یہ جاننے میں مدد ملی کہ رات کے وقت وہ کتنی روشنی کرکے سوتے ہیں۔
3 سال بعد ان افراد کے دلوں کے ایم آر آئی اسکینز کرائے گئے۔
ان تفصیلی تصاویر سے محققین کو دل کی ساخت کا معائنہ کرنے اور افعال کے بارے میں جاننے میں مدد ملی۔
اس کے بعد محققین نے موازنہ کیا کہ مکمل تاریکی میں سونے والے افراد اور مدھم روشنی میں سونے والے افراد کے دلوں کی صحت کیسی ہے۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ رات کو روشنی میں سونے والے افراد کے دلوں کے بائیں خانے کی دیوار موٹی ہو جاتی ہے جبکہ اندرونی گنجائش سکڑ جاتی ہے۔
اسکینز سے یہ بھی انکشاف ہوا کہ دل کے پٹھوں کی لچک گھٹ گئی اور لچک میں کمی سے عندیہ ملتا ہے کہ دل کے افعال کم مؤثر ہوگئے ہیں۔
اس طرح کی تبدیلیاں دل کے دائیں خانے میں بھی دیکھی گئیں۔
محققین نے بتایا کہ یہ اس طرح کی پہلی تحقیق ہے اور نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ رات کے وقت روشنی میں سونے سے دل کی ساخت میں تبدیلیاں آتی ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ عام طور پر ایسی تبدیلیاں اس وقت آتی ہیں جب دل کو دائمی تناؤ یا انجری کا سامنا ہوتا ہے، جس سے دل کمزور ہوتا ہے اور ہارٹ فیلیئر، ہارٹ اٹیک یا فالج کا خطرہ بڑھتا ہے۔
اس تحقیق کے نتائج یورپین ہارٹ جرنل میں شائع ہوئے۔
اس سے قبل اکتوبر 2025 میں جرنل Jama network open میں تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ جو افراد روشن کمروں میں سوتے ہیں، ان میں ہارٹ فیلیئر کا خطرہ 56 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔
اسی طرح دل کی شریانوں کے مرض کا خطرہ 32 فیصد اور فالج کا خطرہ 28 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔
اس تحقیق میں 49 سے 69 سال کی عمر کے 5 لاکھ سے زائد افراد کے ڈیٹا کی جانچ پڑتال کی گئی۔
ان افراد کو 2013 سے 2022 کے درمیان ایک ہفتے تک لائٹ ٹریکرز پہنا کر رات ساڑھے 12 بجے سے صبح 6 بجے تک روشنی میں رہنے کے اثرات کا تجزیہ کیا گیا۔
مجموعی طور پر ان افراد کی صحت کا جائزہ 9 سال تک لیا گیا۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ زیادہ روشنی میں سونے کے عادی افراد میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ 47 فیصد جبکہ دل کی دھڑکن کی بے ترتیبی کے عارضے کا خطرہ 32 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔
مردوں کے مقابلے میں خواتین میں ہارٹ فیلیئر کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے جبکہ نوجوانوں میں بھی زیادہ روشنی میں سونا ہارٹ فیلیئر اور دل کی دھڑکن کی بے تربیتی کا خطرہ بڑھاتا ہے۔
البتہ محققین نے تسلیم کیا کہ یہ تحقیق محدود ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس تحقیق میں صرف تعلق بتایا گیا ہے مگر یہ ثابت نہیں کیا جاسکا کہ رات کے وقت روشنی میں رہنے سے امراض قلب کا سامنا کیوں ہوتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر رات کو کمرے میں مکمل تاریکی کرنا ممکن نہیں تو مدھم روشنی کا استعمال کرنے کی کوشش کریں۔

WhatsApp
Get Alert