طاقتور طبقات اور حکمران عوام کا خون نچوڑ رہے ہیں، پٹرولیم لیوی کے نام پر غریبوں سے بھتہ وصولی نامنظور: مولانا ہدایت الرحمن بلوچ
حکمران طبقے کی شاہ خرچیاں اور لوٹ مار جاری ہے، عوام پر نت نئے ٹیکسوں کا بوجھ مسلط کر کے غریبوں کا جینا اجیرن کر دیا گیا

ظالمانہ اور استحصالی نظام کے خلاف 20 ستمبر کو اسلام آباد لانگ مارچ تاریخ رقم کرے گا: امیر جماعت اسلامی بلوچستان
کوئٹہ(ڈیلی قدرت) امیر جماعت اسلامی بلوچستان و رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا ہے کہ اسلام آباد کے حکمران وطاقتورطبقات ملک کے وسائل اور اختیارات پر قابض ہوکر غریب و مجبور عوام کا خون نچوڑ رہے ہیں۔ حکمران طبقے کی نہ ختم ہونے والی شاہ خرچیاں،مفت خوری اور لوٹ مار جاری ہے، جبکہ عوام کو ریلیف دینے کے بجائے پٹرولیم لیوی سمیت مختلف ناموں سے نت نئے ٹیکسز اور مالی بوجھ مسلط کیے جا رہے ہیں۔ پٹرولیم مصنوعات پر لیوی سمیت عوام سے وصولیوں کے متعدد ایسے منصوبے شروع کیے گئے ہیں جن کا براہِ راست بوجھ عام آدمی پر پڑ رہا ہے۔ان خیالات کااظہارانہوں نے گوادرمیں وفودسے ملاقات کے دوران گفتگو میں کیاانہوں نے کہا کہ حکمران خود سادگی، قناعت اور کم خرچی اختیار کرنے کے بجائے عوام پر بے شمار اور غیر ضروری ٹیکسز عائد کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں غریب، غریب تر اور امیر، امیر تر ہوتا جا رہا ہے۔ ملک میں معاشی ناہمواری، مہنگائی، بے روزگاری اور بدامنی نے عام شہری کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ عوام اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں جبکہ حکمران اشرافیہ قومی خزانے سے مراعات اور عیاشیاں حاصل کر رہی ہے۔مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ جماعت اسلامی نے ہمیشہ عوام کے حقوق اور آئین و قانون کی بالادستی کے لیے جمہوری اور پْرامن جدوجہد کی ہے۔ انہی عوام دشمن پالیسیوں، لوٹ مار، ناروا ٹیکسز، پٹرولیم لیوی کی شکل میں بھتہ خوری، مہنگائی اور حکمرانوں کی شاہ خرچیوں کے خلاف جماعت اسلامی 20 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف پْرامن اور تاریخی عوامی مارچ کر رہی ہے۔ ان شاء اللہ عوام کی طاقت سے حکمرانوں کو مجبور کریں گے کہ وہ عوام کو جینے کا حق دیں، لوٹ مار اور ناروا ٹیکسز کا خاتمہ کریں اور عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کریں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام پہلے ہی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ صوبے میں امن و امان کی صورتحال، روزگار کی کمی، کاروباری مشکلات، بارڈرز اور سڑکوں کی بندش اور مہنگائی نے عوام کو شدید مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے۔ ایسے حالات میں عوام پر مزید ٹیکسز اور لیوی کا بوجھ ڈالنا ظلم کے مترادف ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ عوام کی مشکلات میں اضافہ کرنے کے بجائے اپنے غیر ضروری اخراجات اور شاہ خرچیاں ختم کرے۔انہوں نے کہا کہ 20 ستمبر کے اسلام آباد لانگ مارچ میں بلوچستان سے بھرپور قافلے شریک ہوں گے۔ امرائے اضلاع، برادر تنظیموں اور جماعت اسلامی کے ذمہ داران نے تیاریاں شروع کردی ہیں۔ بلوچستان سے کارکنان اور عوام اسلام آباد پہنچ کر اپنا بھرپور احتجاج ریکارڈ کرائیں گے۔مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ جماعت اسلامی کسی فرد، جماعت یا ادارے کے خلاف نہیں بلکہ عوام دشمن پالیسیوں، کرپشن، لوٹ مار، ناانصافی اور استحصالی نظام کے خلاف جدوجہد کر رہی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ملک کے وسائل پر چند خاندانوں اور اشرافیہ کے بجائے عام پاکستانی کا حق تسلیم کیا جائے۔ نوجوانوں کو روزگار، کسان کو سہولت، تاجر کو محفوظ کاروباری ماحول، مزدور کو باعزت روزگار اور عوام کو سستی بجلی، پٹرول اور بنیادی ضروریات فراہم کی جائیںانہوں نے کہا کہ عوام اب مزید خاموش نہیں رہیں گے۔ سب مل کر جمہوری مزاحمت کے ذریعے اپنے حقوق حاصل کریں گے اور ظالمانہ و استحصالی نظام کو تبدیل کرکے دم لیں گے۔ جماعت اسلامی عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور عوام کے حقوق کے حصول تک اپنی پْرامن جدوجہد جاری رکھے گی۔
