بلوچستان میں ترقی و خوشحالی کا سفر نام نہاد قوم پرست سرداروں کو ہضم نہیں ہو رہا، حاجی علی مدد جتک

کوئٹہ (قدرت روزنامہ)صوبائی وزیر حاجی علی مدد جتک نے کہا ہے کہ بلوچستان میں ترقی و خوشحالی کا یہ روشن سفر اب نام نہاد قوم پرست سرداروں کو کسی صورت ہضم نہیں ہو رہا، کیونکہ صوبے کے طول و عرض میں تاریخی ترقیاتی منصوبوں پر انتہائی تیزی سے عملی کام جاری ہے۔اپنے ایک اہم بیان میں صوبائی وزیر حاجی علی مدد جتک نے انکشاف کیا کہ طویل عرصے سے “خونی شاہراہ” کہلانے والے چمن سے کراچی تک کے روڈ کو ڈبل کرنے کے عظیم منصوبے پر دن رات تیزی سے کام جاری ہے، جو آنے والے دنوں میں صوبے میں جدید سفری سہولیات اور معاشی و تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے ایک سنگِ میل ثابت ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ وزیرِ اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے دورِ حکومت میں صوبے بھر کے اندر جدید ترین ٹراما سینٹرز کا قیام، عوام کے لیے پیپلز ٹرین سروس اور خواتین کے لیے گرین و پنک بس سروسز پر عملی پیش رفت صاف نظر آ رہی ہے۔ انہوں نے کڑے الفاظ میں تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے نام پر سیاست کرنے والوں نے دہائیوں تک اس صوبے کو لاشوں، نفرت اور شدید محرومی کے سوا اور کیا دیا ہے؟حاجی علی مدد جتک نے اس بات پر فخر کا اظہار کیا کہ میر سرفراز بگٹی اور سابق نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے بلوچستان کے پسماندہ علاقوں کے نوجوانوں کے ہاتھ میں بندوق یا پتھر کے بجائے قلم تھمایا ہے۔ صوبے کے باصلاحیت نوجوانوں کو آج آکسفورڈ، ہارورڈ، ایچی سن سمیت دنیا کے صفِ اول کے عالمی تعلیمی اداروں تک رسائی حاصل کرنے کے سنہری مواقع فراہم کیے گئے ہیں۔صوبائی وزیر نے زور دے کر کہا کہ آج حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان میں تعلیم، صحت، سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے، پبلک ٹرانسپورٹ اور نوجوانوں کے روزگار کے منصوبوں پر عملی طور پر کام ہو رہا ہے۔ صوبے کا عام شہری اب کھوکھلے نعروں اور منفی سیاست کے فریب میں نہیں آتا بلکہ وہ زمین پر ہونے والے عملی اقدامات دیکھ رہا ہے، اس لیے بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی کا یہ سفر کسی بھی منفی پروپیگنڈے یا سازش سے ہرگز نہیں رک سکتا۔
