ملکی سلامتی و خودمختاری کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں، سعودی کابینہ


ریاض (قدرت روزنامہ) سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی زیرِ صدارت سعودی کابینہ کا ایک اہم اور اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا ہے، جس میں ملکی سکیورٹی، علاقائی کشیدگی اور بین الاقوامی سفارتی روابط کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے اجلاس کے دوران کابینہ کو پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف کے ساتھ ہونے والی اپنی حالیہ اہم ٹیلیفونک گفتگو اور باہمی دلچسپی کے امور سے تفصیل سے آگاہ کیا، اس کے ساتھ ہی انہوں نے امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل بریڈ کوپر سے ہونے والی ملاقات کی پیشرفت اور دیگر نکات بھی کابینہ کے سامنے رکھے۔
بتایا گیا ہے کہ سعودی کابینہ نے یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کی شہری تنصیبات، ایئر بیسز اور عام شہریوں کو ہدف بنانے کے مسلسل اقدام کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی، اجلاس کے دوران کابینہ نے واضح کیا کہ اقوامِ متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے طے شدہ اصولوں کے تحت سعودی عرب اپنی حدود، شہریوں اور اثاثوں کی حفاظت کے لیے دفاع کا مکمل اور جائز حق رکھتا ہے۔
علاوہ ازیں یمن میں برسرِ پیکار سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے حوثی حملوں پر انتہائی سخت ترین بیان جاری کیا، جس میں میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا کہ حوثیوں کی جانب سے عام شہریوں اور بنیادی املاک کو نشانہ بنانا ان کی انتہا پسندانہ سوچ اور علاقے میں کشیدگی بڑھانے کی باقاعدہ پالیسی کو بے نقاب کرتا ہے، اتحادی افواج تمام تر ذمہ داری اور بھرپور عزم کے ساتھ ان حملوں کا سخت ترین جواب دیں گی اور حوثی ملیشیاء کی خطرے سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری عملی، تزویراتی اور دفاعی اقدامات فوراً اٹھائے جائیں گے۔
بتایا گیا ہے کہ یہ ہنگامی پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پیر کے روز حوثی فورسز نے سعودی عرب کے اہم ترین کنگ خالد ایئر بیس پر بیلسٹک میزائلوں اور بارود سے لیس ڈرونز کے ساتھ حملے کرنے کا دعویٰ کیا تھا، سعودی فوجی اتحاد کے ابتدائی بیانات کے مطابق حوثیوں کے ان متعدد بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں کم از کم 13 شہری زخمی ہوئے اور تنصیبات کو جزوی نقصان پہنچا، جس کے بعد پورے خطے میں فوجی و دفاعی کشیدگی بڑھ گئی۔

WhatsApp
Get Alert