بیرسٹر گوہر کو ہاتھ سے اشارہ کرکے کہا گیا ’اگر لڑنا ہے تو لڑیں‘، منیب فاروق کا انکشاف


اسلام آباد (قدرت روزنامہ) اینکر پرسن اور تجزیہ کار منیب فاروق نے تحریک انصاف کی موجودہ سیاسی حکمتِ عملی، بیرسٹر گوہر کی ملاقاتوں کی پیشرفت اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مذاکرات کی اطلاعات کو مسترد کردیا۔ اس حوالے سے اپنے وی لاگ میں ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو اس وقت پی ٹی آئی سے کسی قسم کی بات چیت میں کوئی دلچسپی نہیں اور تمام تر کوششیں صرف بیرسٹر گوہر کی جانب سے یکطرفہ کی جا رہی ہیں، بیرسٹر گوہر سے حال ہی میں ہونے والی ایک انتہائی اہم ملاقات کے دوران انہیں ہاتھ کے اشارے سے صاف کہہ دیا گیا ہے کہ ’گوہر بھائی! اگر آپ نے لڑنا ہے تو پھر کھل کر لڑیں، آگے جو ہوگا دیکھا جائے گا‘۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ بات چیت کی تمام تر کوششیں محض بیرسٹر گوہر کی جانب سے ہو رہی ہیں تاکہ کوئی درمیانی راستہ نکل سکے، جبکہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو معاملہ حل کرنے میں فی الوقت کوئی دلچسپی نہیں ہے، ایک طرف عمران خان کی بہنیں اڈیالہ جیل کے باہر خوار ہو رہی ہیں اور ان کی ملاقات تک نہیں کرائی جا رہی، دوسری طرف عمران خان کو کیک بھیجنے اور جرنیلوں سے ملاقاتوں کی خبریں چلائی جا رہی ہیں۔
عدالتی نظام اور سیاسی تاریخ کے تضادات پر روشنی ڈالتے ہوئے منیب فاروق نے کہا کہ ماضی میں یہی عدالتیں فیصلے کرتی تھیں کہ کون جیل میں رہے گا اور کون باہر جائے گا، جب وقت بدلتا ہے اور اسٹیبلشمنٹ کی مہر سے فیصلے آتے ہیں تو اس کے نتیجے میں نواز شریف جیسے رہنما با آسانی باہر تشریف لے جاتے ہیں لیکن آج وہی عدالتیں کہہ رہی ہیں کہ کسی بھی قیدی کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا جا سکتا، یہ بدلتا وقت ہے، آج کسی کے حق میں بدلا ہوا ہے، تو کل کسی اور کے حق میں بدلے گا۔

WhatsApp
Get Alert