بڑی خبر یہ ہے کہ بدھ کی رات 2 بڑوں کی 3 گھنٹے ملاقات ہوئی ہے ، جاوید چوہدری
نئے صوبوں کے معاملے پرجو اختلافات تھے وہ ختم ہوگئے ہیں، ملاقات کے بعد محسن نقوی بھی بڑے توانا نظر آئے ملاقات کا نتیجہ یہ نکلاکہ پہلے اسلام آباد صوبہ بنے گا، باقی بعد میں بنیں گے، جاوید چوہدری

لاہور(قدرت روزنامہ)سینئر تجزیہ کار جاوید چوہدری کا کہنا ہے کہ بڑی خبر یہ ہے کہ بدھ کی رات 2 بڑوں کی ملاقات میں نئے صوبوں کے معاملے پرجو اختلافات تھے وہ ختم ہوگئے ہیں۔ انہوں نے پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بڑی خبر یہ ہے کہ بدھ کی رات تین گھنٹے دو بڑوں کی ملاقات ہوئی ہے، نئے صوبوں کے معاملے پر جتنے قیاس یا اختلافات تھے وہ ختم ہوگئے ہیں، اس کے بعد محسن نقوی سامنے آئے ہیں، آپ کے ان کے اندر توانائی دیکھ لیں؟ پاکستان میں صوبوں کے معاملے پر کنفیوژن ختم ہورہی ہے، ملاقات کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ اسلام آباد کو صوبہ بنانا جارہا ہے، باقی صوبوں میں مزید نئے انتظامی یونٹس شاید بعد میں بنیں گے۔
لیکن فی الحال اسلام آباد صوبے سے شروعات ہوجائے گی۔
بدھ کے روز دو بڑوں کی تین گھنٹے ملاقات ہوئی ہے جس کے بعد صوبوں پر اختلافات ختم ہو گئے ہیں فی الحال اسلام آباد کا صوبہ بنے گا باقی صوبے بعد میں بنیں گے ! جاوید چوہدری ۔۔
یعنی زرداری صاحب سندھ کی تقسیم پر راضی ہو چکے ہیں ۔۔ pic.twitter.com/kNV02NkSZb— AMJAD KHAN (@iAmjadKhann) September 19, 2026
دوسری جانب وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال نے پیپلز پارٹی پر سخت تنقید کرتے ہوئے ملک اور دنیا بھر کے تنازعات میں سید عاصم منیر کے کردار کی تعریف کی ہے اور کہا ہے کہ یورپ، امریکہ، مشرقِ وسطیٰ، ایران اور افغانستان سمیت عالمی تنازعات حل کرنے میں اگر کوئی ایک انسان اہم کردار ادا کر رہا ہے تو وہ سید عاصم منیر ہیں، جو لوگ گالم گلوچ کر رہے ہیں وہ یاد رکھیں کہ کتوں کے بھونکنے سے قافلے رُکا نہیں کرتے۔
تفصیلات کے مطابق پریس کانفرنس کرتے ہوئے صوبوں اور نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے معاملے پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ صوبوں کی بات تو ذوالفقار علی بھٹو نے بھی اپنے آئین کی کتاب میں لکھی ہے، ایسا لگتا ہے کہ نئے انتظامی یونٹس کی مخالفت کرنے والے دراصل پاکستان کے وجود کو ہی تسلیم نہیں کرتے، عاصم منیر نے نئے انتظامی یونٹس پر کوئی آفیشل بات نہیں کی لیکن اس کے باوجود پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما ان کا نام لے کر غیر مناسب کلمات ادا کر رہے ہیں، سندھ میں نیا انتظامی یونٹ بننے سے کوئی قتل و غارت گری نہیں ہوگی بلکہ انتظامی امور بہتر ہوں گے۔
ایم کیو ایم کی پارٹی اصلاحات پر مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان کی جماعت واحد سیاسی پارٹی ہے جس نے غلط راستے پر چلنے والے اپنے بانی اور لیڈر کو ہی فارغ کر دیا، ہم نے پہلے اپنے لیڈر کو سمجھایا اور جب وہ نہیں سمجھا تو پارٹی سے ہی نکال دیا، جب کہ پاکستان میں ایسی کوئی دوسری پارٹی نہیں جو یہ ہمت دکھا سکے، کراچی نے ہتھیار رکھ دیئے ہیں مگر ماضی میں جو لوگ قتل و غارت گری کرتے تھے پیپلزپارٹی لندن جا کر ان سے مذاکرات کرتی تھی اور انہیں اجرک و ٹوپیاں پہنایا کرتی تھی، پیپلز پارٹی اپنی کرپشن چھپانے کے لیے ہمیشہ سندھ کارڈ استعمال کرتی ہے۔
