حکومت کو پی ٹی آئی کیخلاف طاقت کا استعمال نہیں کرنا چاہیئے، اس سے عوام اور ریاست کے درمیان خلیج پیدا ہورہا ہے، قمر زمان کائرہ
حکومت یہ سب کرکے عوام کو مایوسی کے سمندر میں دھکیل رہی ہے، ان کی کوشش ہے کہ پی ٹی آئی کبھی احتجاج کی پوزیشن میں نہ آئے، رہنماء پیپلزپارٹی

لاہور(قدرت روزنامہ)مرکزی رہنماء پیپلزپارٹی قمر زمان کائرہ نے نظام کو ہائبرڈ اور ناجائز قرار دےدیا انہوں نے کہا کہ ملک میں جمہوریت کی جگہ ہائبرڈ نظام ہے اور آئین میں اس کی کوئی گنجائش نہیں۔ ہم نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان دور میں بھی جنرل فیض سارے معاملات چلاتے تھے۔
پیپلز پارٹی کے دور میں بھی مداخلت تھی، لیکن پھر بھی کم از کم ہم نے اداروں کو پارلیمنٹ کے سامنے جوابدہ کیا تھا۔ قمر زمان کائرہ نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ پی ٹی آئی کبھی احتجاج کی پوزیشن میں نہ آئے، تاکہ ان کے ورکرز اور ووٹرز مایوس ہوجائیں۔ پی ٹی آئی بھی چاہتی ہے کہ لوگ سڑکوں پر نکلیں، تاکہ لاشیں گریں اور تحریک میں جان آئے، حکومت اور عدالت پر دباؤ بڑھے اور عمران خان کی رہائی کا راستہ نکلے۔
قمر زمان کائرہ کا حکومت کو اپوزیشن سے صلح صفائی کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ احتجاج میں لوگوں کا جمِ غفیر دہشتگردوں کے لیے آسان ہدف ہوسکتا ہے۔ حکومت پی ٹی آئی کے خلاف طاقت کا استعمال بند کرے، پی ٹی آئی کارکنوں کے گھروں میں گھس کر توڑ پھوڑ کرنے سے عوام اور ریاست کے درمیان خلیج پیدا ہورہا ہے۔ حکومت یہ سب کر کے عوام کو مایوسی کے سمندر میں دھکیل رہی ہے۔
دوسری جانب وزیراطلاعات خیبرپختونخواہ شفیع جان کا کہنا ہے کہ ہمارا لانگ مارچ اکتوبر یا نومبر میں اسلام آباد پہنچے گا، مطالبات پورے ہونے تک واپسی نہیں ہوگی۔ نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارا لانگ مارچ اکتوبر یا نومبر میں اسلام آباد پہنچے گا، تین چار دن ہمیں اسلام اباد پہنچنے میں لگیں گے، یہ معاملہ اکتوبر کیا نومبر تک بھی جا سکتا ہے، لانگ مارچ کا فیصلہ حتمی ہے، کوئی تاریخ تبدیل نہیں ہوگی، 27 ستمبر کو سہیل آفریدی پشاور سے روانہ ہوں گے۔
20 لاکھ سے زائد لوگ ہمارے ساتھ ہوں گے، حکومت ہمیں روکنے کا بندوبست کرے، ہمیں روکنا ان کے بس کی بات نہیں ہوگی، تین ہزار کنٹینرز اسلام آباد پہنچ چکے ہیں، یہ خود اسلام آباد کو بند کردیں گے، جب 20 لاکھ لوگ ہوں گے تو لانگ مارچ کو 4 دن اسلام آباد پہنچنے میں لگیں گے، لانگ مارچ کا معاملہ اکتوبرکیا نومبر تک بھی جاسکتا ہے، جب تک مطالبات نہیں مانیں جائیں گے، واپسی نہیں ہوگی۔
