لانگ مارچ سے قبل تحریک انصاف کے رہنماؤں کی مبینہ پکڑ دھکڑ شروع

رکنِ قومی اسمبلی احسن جمال خان پارلیمنٹ کے سامنے سے گرفتار، ایم این اے داور خان کنڈی، رکنِ قومی اسمبلی میاں غوث، ثناء اللہ خان مستی خیل اور سینیٹر سیف اللہ نیازی کو بھی حراست میں لیے جانے کی اطلاعات


اسلام آباد (قدرت روزنامہ) 27 ستمبر کے مجوزہ احتجاجی لانگ مارچ سے قبل وفاقی دارالحکومت اور پنجاب کے مختلف شہروں میں پاکستان تحریکِ انصاف کی مرکزی قیادت، اراکینِ قومی اسمبلی اور سینیٹرز کے خلاف کریک ڈاؤن شدید تر ہو گیا ہے، جہاں یکے بعد دیگرے کئی رہنماؤں کو پارلیمنٹ لاجز اور قومی اسمبلی کے باہر سے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔

پارٹی ترجمان شیخ وقاص اکرم اور اطلاعات کے مطابق اسلام آباد میں کارروائی کرتے ہوئے میانوالی سے منتخب رکنِ قومی اسمبلی احسن جمال خان کو قومی اسمبلی کی عمارت کے بالکل سامنے سے گرفتار کرلیا گیا، اس کے علاوہ رکنِ قومی اسمبلی میاں غوث، رکنِ قومی اسمبلی ثناء اللہ خان مستی خیل کو بھی حراست میں لیے جانے کا اطلاع ہے۔

مزید معلوم ہوا ہے کہ رکنِ قومی اسمبلی داور خان کنڈی کو بھی حراست میں لے لیا گیا، کریک ڈاؤن کے اسی سلسلے میں سینیٹر سیف اللہ نیازی کو پارلیمنٹ لاجز کے اندر سے پولیس اور سیکیورٹی اداروں نے حراست میں لے کر کسی نامعلوم مقام پر منتقل کردیا، علاوہ ازیں بتایا جارہا ہے کہ بہاولپور سے تحریک انصاف کے رہنما سمیع اللہ چوہدری کے بیٹے حمود بن سمیع کو گرفتار کرلیا گیا۔

WhatsApp
Get Alert