مدارس اور مساجد ہماری ریڈ لائن ہیں، دینی اداروں کو نشانہ بنانے کا عمل کسی صورت قبول نہیں: جمعیت علمائے اسلام
علمائے کرام کے خلاف بلاجواز کریک ڈاؤن اور مدارس پر انتظامی پابندیاں اسلامی تشخص مٹانے کی سازش ہیں

مدارس کی آزادی اور تعلیمی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا، جے یو آئی ہر سطح پر آئینی و جمہوری مزاحمت جاری رکھے گی: سینیٹر مولانا عبدالواسع
کوئٹہ(ڈیلی قدرت) جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع اور جنرل سیکرٹری مولانا آغا محمود شاہ نے کہا ہے کہ مدارس و مساجد اسلام کے علمی، فکری اور تہذیبی قلعے ہیں؛ یہ صرف عبادت گاہیں یا تعلیمی مراکز نہیں بلکہ قرآن و سنت کی تعلیم، اسلامی فکر کی حفاظت، دینی شعور کی بیداری اور نسلِ نو کی نظریاتی تربیت کے بنیادی مراکز ہیں۔ جب تک مدارس و مساجد آباد اور علماء اپنے منصب پر موجود ہیں، دین کی تعلیم و ترویج کا چراغ روشن رہے گا اور اسلامی تشخص کے خلاف ہونے والی فکری و تہذیبی یلغار کا مقابلہ علمی بنیادوں پر جاری رہے گا۔ آج کے دور میں مدارس و علمائ ہی وہ مؤثر علمی قوت ہیں جو الحادی، سیکولر اور اسلام مخالف فکری رجحانات کے مقابلے میں اسلامی نظریہ، دینی اقدار اور مسلم معاشرے کی تہذیبی شناخت کا دفاع کر رہے ہیں، اسی لیے مختلف ادوار میں دینی مدارس اور علمائ کو دباؤ، پروپیگنڈے، انتظامی رکاوٹوں اور مختلف نوعیت کے فتنوں کے ذریعے کمزور کرنے کی کوششیں ہوتی رہی ہیں۔ قادیانی فتنہ سمیت اسلام مخالف فکری تحریکوں کی تاریخ اس امر کی گواہ ہے کہ دینی مدارس اور علماء کو کمزور کیے بغیر اسلامی معاشرے کے نظریاتی حصار کو توڑا نہیں جاسکتا، اسی لیے دینی مراکز کو نشانہ بنانے کی ہر کوشش دراصل اسلامی تشخص کو کمزور کرنے کی کوشش تصور ہوگی۔ وطن عزیز میں علمائ کے خلاف بلاجواز کریک ڈاؤن، دینی اداروں پر غیرضروری دباؤ، انتظامی پیچیدگیاں اور مدارس کے معاملات کو تصادم کی طرف لے جانے کا طرزِ عمل ناقابلِ قبول ہے؛ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی طبقات میں اضطراب پیدا کرتے ہیں بلکہ معاشرے کے دینی جذبات اور اجتماعی احساسات کو بھی مجروح کرتے ہیں۔ ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ دینی مدارس کسی مخصوص طبقے کے نہیں بلکہ اس ملک کی دینی، علمی اور تہذیبی میراث ہیں، ان کے ساتھ ریاستی پالیسی کا بنیادی اصول تصادم نہیں بلکہ اعتماد، مشاورت، قانونی تحفظ اور باہمی احترام ہونا چاہیے۔ مدارس کی رجسٹریشن، مالی و انتظامی معاملات اور دیگر قانونی امور کو شفاف اور قابلِ عمل بنانے کے نام پر ایسی شرائط، رکاوٹیں یا غیرضروری نگرانی مسلط نہیں کی جاسکتی جو ان کے دینی تشخص، تعلیمی خودمختاری اور بنیادی کردار کو متاثر کرے۔ جمعیت علماء اسلام کی سیاسی و فکری جدوجہد کا مرکز ہی قرآن و سنت، علمائ اور دینی مدارس کا تحفظ ہے؛ مدارس ہمارے لیے سیاسی مصلحت نہیں بلکہ دینی و نظریاتی وابستگی کا بنیادی حوالہ ہیں، اس لیے ان کے حقوق اور تشخص کے تحفظ کے لیے جمعیت علماء اسلام ہر آئینی، قانونی، سیاسی اور جمہوری فورم پر بھرپور آواز بلند کرے گی۔ ہم حکومت اور متعلقہ اداروں پر واضح کرتے ہیں کہ مدارس کے معاملات میں یکطرفہ فیصلے، غیرضروری قدغنیں اور طاقت کے استعمال کے بجائے علماء کی نمائندہ قیادت کو اعتماد میں لے کر بامعنی مشاورت اور اتفاقِ رائے کا راستہ اختیار کیا جائے۔ مدارس کی آزادیِ تدریس، دینی تشخص، انتظامی خودمختاری اور آئینی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ مدارس ہماری ریڈ لائن ہیں؛ ان کے تقدس، دینی کردار، علمی خودمختاری اور جائز حقوق کی طرف اٹھنے والا ہر غیرضروری قدم جمعیت علماء اسلام کے لیے ناقابلِ قبول ہوگا، اور ہم مدارس و مساجد کے تحفظ کو محض ایک تنظیمی معاملہ نہیں بلکہ اسلامی تشخص، آئینی آزادی اور قومی دینی ورثے کے تحفظ کی جدوجہد سمجھتے ہوئے اپنی آئینی و جمہوری مزاحمت جاری رکھیں گے۔
