عمران خان کے خاندان کی 4 خواتین گرفتار؛ حامد میر نے تاریخی موازنہ پیش کردیا

جنرل ضیاء دور میں بھٹو خاندان کی 2 خواتین گرفتار ہوئی تھیں، عمران خان دور میں شریف خاندان اور زرداری خاندان کی 1،1 خاتون گرفتار ہوئی، اب عمران خان کی اہلیہ اور 3 بہنوں کو گرفتار کرلیا گیا؛ سینئر صحافی کا تبصرہ


اسلام آباد(قدرت روزنامہ)پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی تینوں بہنوں کی لاہور سے تھری ایم پی او کے تحت گرفتاری کے بعد سینئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر نے سیاسی تاریخ کے بارے میں بتاتے ہوئے ایک موازنہ پیش کیا ہے، جس کے نتیجے میں موجودہ حکومت کے دور کو سیاسی انتقام اور خواتین کی گرفتاریوں کے حوالے سے سخت ترین قرار دیا جارہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کردہ اپنی ایک پوسٹ میں حامد میر نے لکھا کہ عمران خان کے خاندان کی اب تک 4 خواتین کو حراست میں لیا جا چکا ہے، سیاسی تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ماضی میں سابق صدر جنرل ضیاء الحق کے آمریت پر مبنی دورِ حکومت میں بھٹو خاندان کی صرف 2 خواتین کو گرفتار کیا گیا تھا۔


اس حوالے سے سینئر صحافی نے مزید کہا کہ خود عمران خان کے اپنے دورِ حکومت میں شریف خاندان کی صرف ایک خاتون مریم نواز اور زرداری خاندان کی ایک خاتون فریال تالپور کو حراست میں لیا گیا تھا، لیکن موجودہ دورِ حکومت میں سیاسی انتقام کی تمام حدیں عبور کرتے ہوئے عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور ان کی تینوں بہنوں علیمہ خان، ڈاکٹر عظمیٰ خان اور نورین نیازی کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا ہے۔

WhatsApp
Get Alert