افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر پاکستان کا بڑا حملہ، 28 دہشت گرد ہلاک

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)پاکستان نے افغانستان کے اندر دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر درست اور ہدفی حملے کیے ہیں جن میں حافظ گل بہادر گروپ اور فتنۃ الخوارج سے وابستہ دہشت گردوں کے مبینہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔
پاکستانی ذرائع کے مطابق کارروائی پاک افغان سرحد کے قریب افغانستان کے اندر دہشت گردوں کے ان مراکز کے خلاف کی گئی جہاں سے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں اور سرحد پار حملوں کی منصوبہ بندی کی جا رہی تھی۔
کارروائی کے دوران 28 دہشت گرد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔ تاہم ہلاکتوں اور زخمیوں کی حتمی تعداد کے بارے میں آزاد ذرائع سے تاحال تصدیق سامنے نہیں آئی۔
پاکستان کی جانب سے کارروائی کو انٹیلی جنس بیسڈ اور پریسیژن اسٹرائیکس قرار دیا گیا ہے جس کا مقصد دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں تربیتی مراکز اور ان عناصر کو نشانہ بنانا بتایا گیا ہے جو پاکستان میں دہشت گردی کے لیے افغانستان کی سرزمین استعمال کر رہے ہیں۔
پاکستانی مؤقف کے مطابق حافظ گل بہادر گروپ سمیت کالعدم دہشت گرد تنظیموں کے عناصر کی جانب سے سرحد پار دہشت گردی کا سلسلہ جاری ہے اور افغانستان سے ملحقہ علاقوں میں دہشت گردوں کی موجودگی پاکستان کے لیے مسلسل سکیورٹی چیلنج بنی ہوئی ہے۔ حافظ گل بہادر گروپ کی سرگرمیوں اور شمالی وزیرستان سے اس کے تعلقات کا بھی مختلف سکیورٹی رپورٹس میں ذکر ملتا ہے۔
پاکستان نے واضح کیا ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے مبینہ طور پر بھارتی پشت پناہی میں کی جانے والی دہشت گردی اور خوارج کی جانب سے پاکستان کے خلاف ہر کارروائی کا ریاستی طاقت سے بھرپور جواب دیا جائے گا۔ دشمن عناصر کی جانب سے پاکستان کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش کا جواب پوری ریاستی قوت عزم اور سختی کے ساتھ دیا جائے گا۔ پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ سرحد پار دہشت گردی کے کسی بھی اقدام کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا اور ملک کے دفاع، شہریوں کے تحفظ اور قومی سلامتی کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
پاکستان نے واضح کیا ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کے خلاف کارروائی جاری رہے گی اور افغان حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کے لیے ٹھوس اور مؤثر اقدامات کرے۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں ریاست کی پالیسی واضح ہے اور سرحد پار موجود دہشت گرد نیٹ ورکس کو پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرہ بننے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خیبر پختونخوا میں حالیہ دہشت گرد حملوں کے بعد پاکستان اور افغانستان کے درمیان سکیورٹی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ 18 ستمبر کو کوہاٹ میں پولیس لائنز پر ہونے والے حملے کے بعد بھی پاکستانی حکام نے افغانستان میں موجود مبینہ دہشت گرد پناہ گاہوں کے خلاف کارروائی کا عندیہ دیا تھا۔
پاکستان اس سے قبل بھی افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر نشانہ بنانے کا مؤقف اختیار کرتا رہا ہے۔ پاکستانی وزارت خارجہ نے گزشتہ کارروائیوں کے حوالے سے کہا تھا کہ اہداف کا انتخاب انتہائی احتیاط سے کیا جاتا ہے اور کارروائیوں کا مقصد دہشت گردوں اور ان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا ہوتا ہے۔
پاکستانی مؤقف کے مطابق افغانستان کو دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے بصورت دیگر پاکستان اپنی سرزمین اور شہریوں کے تحفظ کے لیے کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
