محسن نقوی کی جگہ کوئی سنجیدہ شخصیت بات کرتی تو پی ٹی آئی کا لانگ مارچ ملتوی ہوسکتا تھا، محسن بیگ
محسن نقوی تو خود اس نظام کی پیداوار ہیں، جس نظام کو وہ فیل کہہ رہے ہیں اس کے بینفشری ہیں، اگر یہ نظام فیل نہ ہوتا تویہ صاحب وہاں ہوتے جہاں آج بیٹھے ہیں؟ صحافی کی ٹاک شو میں گفتگو

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی جانب سے نظام کے فیل ہونے اور موجودہ صورتحال سے متعلق حالیہ بیانات پر سینیئر صحافی و تجزیہ کار محسن بیگ نے ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیرِ داخلہ خود اس ناکام اور منہدم نظام کی پیداوار ہیں اور اگر یہ نظام خراب نہ ہوتا تو ان جیسے غیر سنجیدہ افراد کبھی اس عہدے پر نہ بیٹھے ہوتے۔
ہم نیوز کے ٹاک شو کے دوران گفتگو کرتے ہوئے اینکر پرسن عادل نظامی نے کہا کہ ’آپ محسن نقوی کو سیریس نہیں لے رہے، انہوں نے بیان دیا کہ سسٹم کولیپس کرگیا ہے تو پورا نظام ہل کر رہ گیا‘، اس پر اپنا مؤقف دیتے ہوئے محسن بیگ نے کہا کہ ’محسن نقوی خود اسی خراب نظام کی پیداوار اور سب سے بڑے مستفید ہیں، اگر یہ نظام فیل نہ ہوتا تو یہ صاحب کبھی بھی اس جگہ پر نہ ہوتے جہاں وہ آج بیٹھے ہوئے ہیں‘۔
وزیراعظم خود پی ٹی آئی سے بات کریں اور عمران خان سے متعلق رعایت دیں،،محسن نقوی کی جگہ کوئی سنجیدہ شخصیت بات کرتی تو PTI کا دھرنا ملتوی ہوسکتا تھا، محسن بیگ pic.twitter.com/y3LHQKknyD
— Muhammad Zeeshan Awan (@surrakimuhammad) September 21, 2026
محسن بیگ نے وزیرِ داخلہ کی کارکردگی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بنیادی طور پر تو ان کی یہ نوکری مانگے تانگے کی ہے، کوئی واقعی بڑی نوکری یا عوامی پوزیشن نہیں ملی، اس لیے انہیں اپنے قد سے بڑی باتیں نہیں کرنی چاہئیں جو وہ کر نہیں سکتے، محسن نقوی دوسروں کو نظام خراب ہونے کا طعنہ دیتے ہیں لیکن جو ادارے ان کے اپنے کنٹرول میں تھے، جیسے پاکستان کرکٹ بورڈ، انہوں نے وہاں کیا تیر مارا ہے؟ کرکٹ کا حال سب کے سامنے ہے، انہوں نے ہر چیز کو پہلے سے زیادہ بدتر اور خراب کردیا اور ان سے کوئی پوچھنے والا بھی نہیں ہے۔
محسن بیگ نے تجویز دی کہ اگر محسن نقوی کی جگہ حکومت کا کوئی سنجیدہ فرد یا شخصیت بات کرتی تو شاید تحریکِ انصاف اپنا 27 ستمبر کا دھرنا یا لانگ مارچ ملتوی کردیتی، اب وزیراعظم شہباز شریف کو خود آگے بڑھ کر پی ٹی آئی سے براہِ راست مذاکرات کرنے چاہئیں اور پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کے حوالے سے ریلیف یا رعایت پر بات چیت کرنی چاہیے۔
