کوئی را کا ایجنٹ، کوئی افغانستان کا ایجنٹ اور کوئی ایران کا ایجنٹ بن جاتا ہے، مولانا فضل الرحمان


اسلام آباد (قدرت روزنامہ) سربراہ جےیوآئی ف مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ کوئی را کا ایجنٹ، کوئی افغانستان کا ایجنٹ اور کوئی ایران کا ایجنٹ بن جاتا ہے، صرف یہی پاکستانی ہیں، ہمارے طاقتور صرف خود کو پاکستانی کہتے ہیں اور کسی کو پاکستانی نہیں سمجھتے، یہ رویے ناقابل برداشت ہوتے جارہے ہیں۔
انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کوئی را کا ایجنٹ بن جاتا ہے، کوئی افغانستان کا ایجنٹ بن جاتا ہے، کوئی ایران کا ایجنٹ بن جاتا ہے، بس یہی پاکستانی ہیں، جس طرح خوارج صرف اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں، اسی طریقے سے ہمارے طاقتور بھی صرف اپنے آپ کو پاکستانی کہتے ہیں اور اپنے علاوہ کسی کو پاکستانی نہیں سمجھتے ، یہ رویے ناقابل برداشت ہوتے جارہے ہیں، حکومت کو اس پر غور کرنا چاہیئے، اگر اسمبلیاں اور حکومتیں ہیں تو پھر ان کی رٹ بھی نظر آنی چاہیئے، ان کے اختیارات کو کوئی چیلنج نہ کرے، ورنہ پھر ہر کوئی ہر کسی کے اختیار کو چیلنج کرے گا۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جے یو آئی کے بغیر حکومت بنتی نہیں اور بنے تو چلتی نہیں،پیپلزپارٹی حکومت سے الگ ہوتی ہے تو پھر یہ اقلیت کی حکومت ہو گی،ابھی اپوزیشن اس صورتحال میں نہیں کہ تحریک عدم اعتماد لائے،صوبوں کی جنگ آئین کے مطابق لڑیں گے،ملک میں مہنگائی بڑھ گئی، عوام کے دکھ کا مداوا نہیں ہورہا، کچھ جماعتوں نے احتجاج کا اعلان کیا تو اسلام آباد کنٹینرز سے بھردیا گیا،سعودی عرب سے معاہدے کو آگے بڑھنا چاہیے اور معاہدے میں مصر اور ایران کو شامل ہونا چاہیے تھا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پیپلزپارٹی حکومت سے الگ ہوتی ہے تو پھر یہ اقلیت کی حکومت ہو گی۔انہوں نے کہا کہ ابھی اپوزیشن اس صورتحال میں نہیں کہ تحریک عدم اعتماد لائے، ابھی اس حوالے سے کوئی سوچ نہیں نہ تحریک عدم اعتماد پر غور کیا گیا تاہم تحریک عدم اعتماد آتی ہے تو ساتھ دیں گے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پارلیمانی طرز حکومت کو مستحکم نہیں ہونا دیا جا رہا ہے، معیشت اور مہنگائی سے ہم سب کو مسئلہ ہے۔
نیوایجنسی کے مطابق جے یو آئی سربراہ نے کہا کہ ہم بار بار کہتے رہے ہیں کہ دو صوبوں میں کوئی حکومتی رٹ نہیں، سندھ میں جائیں تو وہاں بھی اسٹریٹ کرائمز ہیں، بلوچستان جائیں تو وہاں دن دیہاڑے بینک لوٹے جاتے ہیں،کوئی نظام نہیں کہ بینکوں یا شہریوں کو تحفظ دے سکیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز ہمارے ایک سینیٹر کو ائیرپورٹ پر روک دیا گیا، وہ چین نہیں جاسکے، ہمارے صوبے میں وزرا کو روڈ پر روک دیا جاتا ہے۔
مولانافضل الرحمان نے کہا کہ ملک میں مہنگائی بڑھ گئی، عوام کے دکھ کا مداوا نہیں ہورہا، کچھ جماعتوں نے احتجاج کا اعلان کیا تو اسلام آباد کنٹینرز سے بھردیا گیا۔انہوںنے کہاکہ سعودی عرب سے معاہدے کو آگے بڑھنا چاہیے اور معاہدے میں مصر اور ایران کو شامل ہونا چاہیے تھا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے صوبوں کے حقوق کی بات کی،صوبے کے وسائل کے مالک صوبے کے عوام ہیں، صوبوں کی جنگ آئین کے مطابق لڑیں گے۔

WhatsApp
Get Alert