24 کلو میٹر کے شہر میں 24 سو کنٹینرز! اتنا خوفزدہ ہونے کی کیا ضرورت تھی؟ رؤف کلاسرہ کا سوال
زیادہ سے زیادہ آپ کو شہر کے انٹری پوائنٹس کو کور کرنا تھا، آپ نے الٹا شہر اور شہریوں کو اندر سے ہی ان دیوہیکل کنٹینرز میں قید کر دیا اور چابیاں جیب میں ڈال کر نکل گئے ہیں؛ سینئر صحافی و تجزیہ کار کی طنزیہ تنقید

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)معروف سینیئر صحافی اور تجزیہ کار رؤف کلاسرا نے تحریکِ انصاف کے 27 ستمبر کے مجوزہ احتجاج اور لانگ مارچ سے قبل وفاقی دارالحکومت کو مکمل طور پر سیل کرنے اور کنٹینر لگا کر بند کرنے پر وزیر داخلہ محسن نقوی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے خوف اور بدحواسی میں اسلام آباد کو ایک قید خانے میں تبدیل کردیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں انہوں نے لکھا کہ بطور وزیر داخلہ یہ کام ماضی میں رحمان ملک، چوہدری نثار، شیخ رشید اور رانا ثناء اللہ بھی کرتے رہے مگر محسن نقوی اس شہر کو قید کرنے کے عمل کو ایک الگ ہی سطح پر لے گئے ہیں، اتنے خوفزدہ اور دہشت زدہ ہونے کی کیا ضرورت تھی کہ احتجاج سے دس دن پہلے ہی پورے شہر کو کنٹینرز لگا کر قلعے میں بدل دیا گیا، کچھ تو خود پر اور اپنے انتظامی نظام پر اعتماد کیا جاتا۔
اس دفعہ جو کام ہمارے پیارے محسن نقوی نے اسلام آباد کے ساتھ کر دیا ہے وہ آج تک نہیں ہوا۔وزیرداخلہ کے طور پر یہ کام رحمن ملک بھی کرتے رہے، چوہدری نثار، شیخ رشید اور رانا ثناء اللہ بھی کرتے رہے لیکن آپ تو اس کام کو next level تک لے گئے ہیں۔
اتنا بھی خوفزدہ اور دہشت زدہ ہونے کی کیا… pic.twitter.com/bNeYme4avS— Rauf Klasra (@KlasraRauf) September 22, 2026
رؤف کلاسرا نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ یوں لگتا ہے جیسے نقوی صاحب پوری بندرگاہ کے کنٹینرز بھاری کرائے پر اٹھا لائے ہیں اور اب ملک کی آئندہ امپورٹ ایکسپورٹ کراچی کی بجائے اسلام آباد سے ہی ہوا کرے گی، جس چوبیس کلو میٹر کے شہر میں کبھی ٹرک تک نہیں دیکھا جاتا تھا، وہاں ہر ایک انچ پر کنٹینر لا کر کھڑا کر دیا گیا ہے اور اندازاً چوبیس سو سے زائد کنٹینرز لگا دیئے گئے ہیں، اگلے چند دنوں میں شاید ہر گھر، گلی اور نکڑ پر بھی ایک ایک کنٹینر لگا دیا جائے گا اور اگر کم پڑ گئے تو مزید بیرونِ ملک سے امپورٹ کرنا پڑیں گے۔
ان کا کہنا ہے کہ احتجاج سے دس دن پہلے ہی پورے شہر کو قلعہ بنا دینا حکومت اور وزیرِ داخلہ کے خوف، پریشانی اور غیر یقینی مزاج کو ظاہر کرتا ہے، حکومت کو خود پر کچھ اعتماد ہونا چاہیے تھا، حفاظتی تدابیر کے نام پر صرف شہر کے داخلی راستوں کو بند کیا جانا چاہیے تھا لیکن اس کے برعکس پورے شہر اور شہریوں کو اندر سے ہی ان دیوہیکل کنٹینرز کے ذریعے قید کر دیا گیا ہے جس سے اسلام آباد کی شکل اور حالات بگڑ چکے ہیں۔
