پی ٹی آئی لانگ مارچ سے نمٹنے کیلئے اسلام آباد پولیس نے پنجاب سے 16 ہزار اہلکار مانگ لئے


اسلام آباد (قدرت روزنامہ) اسلام آباد پولیس نے تحریک انصاف کے لانگ مارچ سے نمٹنے کیلئے پنجاب سے 16 ہزار اور سندھ سے 2 ہزار اہلکاروں پر مشتمل بھاری نفری مانگ لی ہے۔ ذرائع جیو نیوز کے مطابق اسلام آباد پولیس نے وزارت داخلہ کی ہدایت اور احکامات کے روشنی میں پی ٹی آئی کے27 ستمبر کے ممکنہ لانگ مارچ سے نمٹنے کیلئے حکمت عملی کو عملی جامہ پہنانا شروع کردیا ہے۔
اسلام آباد پولیس نے پی ٹی آئی لانگ مارچ سے نمٹنے کیلئے پنجاب سے 16 ہزار اور سندھ سے 2 ہزار اہلکار مانگ لئے ہیں۔ اسی طرح پنجاب اور سندھ سے 3 ڈی آئی جیز، 7 ایس ایس پیز اور 18 ایس پیز بھی طلب کیے گئے ہیں۔

اسی طرح اسلام آباد پولیس نے سکیورٹی انتظامات کیلئے 82 کروڑ 70 لاکھ روپے بھی مانگے ہیں، شاہراہوں کو بند کرنے کیلئے اسلام آباد اور اٹک میں 2 ہزار سے زائد کنٹینرز پہنچا دیے گئے۔
معلوم پوا ہےکہ 30 ہزار کے قریب اہلکاروں کو اٹک میں تعینات کیا جائے گا۔ حکمت بنائی گئی ہے کہ مظاہرین کو منتشر کرنے سے زیادہ گرفتاریاں کی جائیں گی۔ مزید برآں میڈیا رپورٹس کے مطابق پی ٹی آئی کا لانگ مارچ روکنے کیلئے شاہراہوں کو بند کرنے اور خندقین کھودنے کیلئے حکومتی مشینری متحرک ہوچکی ہے۔ اسی حوالے سے ایکس پر ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ڈی آئی خان میانوالی سی پیک شاہراہ کو ریت کے بھرے کنٹینروں سے بند کیا جارہا ہے۔
شاہراہ کو بند کرنے کیلئے ٹریکٹروں کے ساتھ زوروشور سے کام جاری ہے ۔ وفاقی حکومت کی جانب سے سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کرنے اور خندقین کھودنے کی خبر بھی سامنے آئی ہے۔

میڈیا کے مطابق حکومت نے خیبر پختونخواہ سے اسلام آباد آنے والے پی ٹی آئی مظاہرین کو روکنے کیلئے حکمت عملی تیار کر لی ہے، جس کے تحت خیبر پختونخواہ سے اسلام آباد آنے والی شاہراؤں پر خندقین کھودنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ جی ٹی روڈ پر احتجاجی مظاہرین کو روکنے کیلئے خندقین کھودی جائیں گی۔ 26نمبر چونگی، پیرودھائی، آئی جی پی روڈ اسوال روڈ ، کٹی پہاڑی پر خندقین کھودی جائیں گی۔ اسی طرح خیبرپختونخواہ سے اسلام آباد آنے والے راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کی جائیں گی۔خندقین کھودنے کیلئے مزدوروں کو بلا لیا گیا ہے، جبکہ مٹی کی بوریاں بھی جمع کی جارہی ہیں،مٹی کی بوریوں کو کنٹینرز میں رکھا جائے گا۔

WhatsApp
Get Alert