مائنس عمران خان فارمولا ملک کے لیے بربادی کا راستہ ہے، لانگ مارچ غیر جمہوری حکومت کے خاتمے تک جاری رہے گا: محمود خان اچکزئی
سیاستدان ایجاد نہیں ہوتے بلکہ عوام کے درمیان سے جنم لیتے ہیں، ایجنسیوں کا کام جعلی سیاستدان تیار کرنا نہیں بلکہ کرپشن کا ریکارڈ مرتب کرنا ہے

نواز شریف، مولانا فضل الرحمن، آصف زرداری اور دیگر تمام سیاسی قیادت کم از کم نکات پر اکٹھی ہو اور افواج، عدلیہ اور میڈیا کی آزادی کے لیے دو ٹوک فیصلہ کرے
تحریک انصاف اور عمران خان پر مظالم کی انتہا ہو چکی، علیمہ خان اور پی ٹی آئی رہنماؤں کی گرفتاریوں سے عوام کو مشتعل کیا جا رہا ہے: قائد حزب اختلاف
کوئٹہ +اسلام آباد (ڈیلی قدرت) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین، تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر سخت ترین موقف اختیار کیا ہے۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ “مائنس عمران خان” فارمولے کا خواب دیکھنے والے پاکستان کو تباہی کے راستے پر دھکیل رہے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ لانگ مارچ کا سلسلہ اب اس وقت تک نہیں رکے گا جب تک کہ اس غیر جمہوری حکومت کا مکمل طور پر خاتمہ نہیں ہو جاتا۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ جمہوری احتجاج عوام کا بنیادی حق ہے، اور ملک کے کروڑوں عوام کو اپنے سلب شدہ حقوق کے حصول کے لیے سڑکوں پر نکلنا ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ ایک نئے جمہوری پاکستان کی تشکیل نو ناگزیر ہو چکی ہے جس کی بنیاد صرف اور صرف آئین کے احترام پر رکھی جا سکتی ہے۔ انہوں نے ملکی سیاسی قیادت بشمول میاں نواز شریف، مولانا فضل الرحمن، آصف علی زرداری، پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی اور اے این پی پر زور دیا کہ وہ کم از کم نکات پر متحد ہو جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب سیاسی لوگوں کو مل کر مقتدر حلقوں کو یہ واضح پیغام دینا ہوگا کہ سیاسی فیصلے سیاستدانوں کا حق ہیں، اور اس کے ساتھ عدلیہ اور میڈیا کو ہر قسم کے دباؤ سے آزادی دلانی ہوگی۔
قائد حزب اختلاف نے سیاستدانوں کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سیاسی پارٹیوں نے اپنے ہی ووٹوں سے پارلیمنٹ کو کمزور کیا اور آئین کے خلاف جا کر خود اپنے ہاتھ باندھے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بے انصافی کے ماحول میں کوئی نظام نہیں چل سکتا، بے انصافیوں سے نفرتیں جنم لیتی ہیں اور جب کروڑوں غریب انسان لانگ مارچ میں نکلیں گے تو پھر کسی کے بس میں نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار پر قابض عناصر خود بھی توبہ کریں اور آئندہ کے لیے جمہوریت کی ضمانت دیں۔ پاکستان بے پناہ وسائل کا مالک ہے مگر غلط پالیسیوں کے باعث آج ہم دنیا سے بھیک مانگنے پر مجبور ہیں۔ دھمکیوں سے کام نہیں چلے گا، عوام کو حق حکمرانی میں شامل کرنا ہوگا اور اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنا ہوگا۔
عمران خان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اگرچہ ان کی عمران خان سے سالوں سے ملاقات نہیں ہوئی، لیکن انہیں پختہ یقین ہے کہ عمران خان کو اس بات پر قائل کیا جا سکتا ہے کہ وہ ماضی کی تلخیوں کو بھلا کر ملک کے وسیع تر مفاد میں آگے بڑھیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ہم کسی سے انتقام نہیں لیں گے لیکن اس کے بدلے میں سیاسی لوگوں کو دیوار سے لگانے اور سیاست کو بدنام کرنے کا مکروہ سلسلہ اب بند ہونا چاہیے۔ انہوں نے خفیہ ایجنسیوں کے کردار پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے ہماری ایجنسیوں کو، جن کی ذمہ داریاں بین الاقوامی سطح کی تھیں، جعلی سیاستدان تیار کرنے کے کام پر لگا دیا گیا ہے۔ سیاستدان کبھی ایجاد نہیں ہوتے، وہ فیکٹریوں میں نہیں بنتے بلکہ ایک حقیقی سیاستدان عوام کے درمیان اور گلی کوچوں کی سیاست سے جنم لیتا ہے۔ انہوں نے مقتدر حلقوں سے گزارش کی کہ وہ یہ روش ترک کریں اور اپنی توانائیاں کرپٹ عناصر کا ریکارڈ مرتب کرنے پر صرف کریں۔
عمران خان کی مقبولیت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ عمران خان مقبولیت کے اس مقام پر پہنچ چکے ہیں کہ جب بھی شفاف انتخابات ہوں گے، وہ پورے پاکستان میں سویپ کر جائیں گے۔ عوام کو اس سے غرض نہیں ہوگی کہ امیدوار کون ہے، وہ صرف عمران خان کے نام پر ووٹ دیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایسی کوئی سوچ پروان چڑھائی جا رہی ہے کہ ‘مائنس عمران خان’ کے بعد نظام چل جائے گا، تو یہ پاکستان کے لیے خطرناک اور بربادی کا راستہ ہے۔ جب آپ کسی کو تنہا کر کے تنگ کرتے ہیں، بالخصوص جب وہ حق پر ہو، اور اسے توڑنے کی کوشش کرتے ہیں، تو اس کے نتائج بھیانک ہوتے ہیں۔
عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ بی بی اور پی ٹی آئی رہنماؤں کی گرفتاریوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے سوال کیا کہ عمران خان کی بہنوں کو گرفتار کرنے کا کیا جواز ہے؟ کیا یہ دانستہ طور پر عوام کو مشتعل کرنے کی کوشش نہیں ہے؟ انہوں نے مقتدر حلقوں سے سوال کیا کہ آپ اپنے ہی عوام سے کیوں خوفزدہ ہیں؟ پشاور میں منتخب رکنِ اسمبلی پر نامعلوم مسلح افراد کا دھاوا اور الٹا انھی کے خلاف ایف آئی آر کا اندراج کہاں کا انصاف ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ خیبر پختونخوا کی آئینی اور منتخب صوبائی حکومت پر حملہ آور ہو کر کیا آپ ملک کو خانہ جنگی کی جانب دھکیلنا چاہتے ہیں؟
محمود خان اچکزئی نے الیکشن کمیشن کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس حکومت کو قائم ہوئے ڈھائی سال گزر چکے ہیں اور یہ ایک غیر آئینی حکومت ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ ہم سب مل بیٹھ کر نئے اور شفاف انتخابات پر متفق کیوں نہیں ہو جاتے؟ نیا الیکشن کمیشن تشکیل دیا جائے اور فوری انتخابات کروائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن سے متعلق آئینی ذمہ داری پوری کرنے کے لیے میں نے خط لکھا تھا، اور ملاقات کہیں بھی ہو سکتی ہے لیکن یہ ایک آئینی فریضہ ہے جسے ہر صورت ادا ہونا چاہیے۔
انٹرویو کے آخر میں انہوں نے کہا کہ ہمارے اکابرین نے آئین اور جمہوریت کے لیے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، لیکن اپنی من مانیوں سے ملک کو دولخت کرنے والوں نے آج تک قوم کو سچ نہیں بتایا۔ انہوں نے ایور گرین سیاسی خاندانوں پر بھی پابندی کا مطالبہ کیا جو ہر دور حکومت میں شامل رہتے ہیں۔ انہوں نے تحریک انصاف کے 27 ستمبر کے لانگ مارچ کو اس تحریک کی ابتدا قرار دیا جو غیر جمہوری حکومت کے خاتمے تک جاری رہے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہم کسی کو گالی دینے یا پتھر مارنے نہیں جا رہے، بلکہ یہ ہمارا آئینی حق ہے جسے دبایا نہیں جا سکتا۔ عمران خان کو بالکل غیر آئینی طور پر جیل میں رکھا گیا ہے اور ہم اس کے خلاف اپنی جمہوری جدوجہد جاری رکھیں گے۔
