حوثیوں کے حملوں کیخلاف سعودی عرب جب چاہے گا تو پاکستان ضرور مدد کرے گا، اعزاز چوہدری

لیکن جنگ کو بھڑکا دینے سے سعودی عرب کی کوئی خدمت نہیں ہوگی، جنگ کو روکنا ضروری ہے، سعودی عرب اور ایران کے درمیان چین کو بھی کردار ادا کرنا پڑے گا۔ سابق سیکرٹری خارجہ


اسلام آباد(قدرت روزنامہ)سابق سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری کا کہنا ہے کہ حوثیوں کے حملوں کیخلاف سعودی عرب جب چاہے گا تو پاکستان ضرور مدد کرے گا، لیکن جنگ کو بھڑکا دینے سے سعودی عرب کی کوئی خدمت نہیں ہوگی۔ ہم نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عباس عراقچی کی امریکیوں کے ساتھ میٹنگ اہم مگر مجھے برف پگھلتی نظر نہیں آ رہی کیونکہ صدر ٹرمپ اس جنگ سے نکل نہیں پا رہے اور اس مسئلے کے حل کے لیے اُن کے پاس کوئی راستہ نہیں ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ ایک ہی سانس میں دھمکیاں بھی لگا رہے ہوتے ہیں اور مذاکرات کرنے کی بھی بات کرتے ہیں، کچھ پلے نہیں پڑنے دیتے کہ وہ چاہتے کیا ہیں؟ مجھے لگتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو ایگزٹ نہیں مل رہاکہ اس جنگ سے باہر کیسے نکلیں ، اسرائیل سمیت ان کے صلاح کار چاہتے کہ بڑا حملہ کیا جائے، دوسری طرف ایران کی پروپوزل بھی آئی ہیں کہ اگر امریکا دونوں اطراف محاصرہ ختم کردے تو ایران آبنائے ہرمز کھول دے گا، مجھے نہیں لگتا کہ ٹرمپ کے پاس کوئی اسٹریٹجی ہے، ٹرمپ کے پاس یہ ایک اچھا ہے اگر ایگزٹ چاہتے ہیں۔
لیکن ٹرمپ کے صلاح کار ایسا ہونے نہیں دے رہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے اور کھڑا رہے گا ، حوثیوں کے حملوں کے خلاف سعودی عرب چاہے گا تو پاکستان ضرور مد د کرے گا، لیکن جنگ کو بھڑکادینے سے سعودی عرب کی کوئی خدمت نہیں ہوگی، اس جنگ کو روکنا ضروری ہے، سعودی عرب کو بھی شاید گولہ باری بند کرنا پڑے گی۔
کچھ بات چیت سعودی عرب اور کچھ ایران کی طرف بھی کرنا ہوگی۔ موجودہ صورتحال میں سعودی عرب اور ایران کے درمیان چین کو کردار ادا کرنا چاپئے، جیسے کہ تین سال پہلے کردار ادا کیا تھا۔ اسی طرح پروگرام میں دفاعی تجزیہ کار سید محمد علی کے مطابق لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ نعمان کا مکہ ڈیفنس الائنس کے پہلے سیکرٹری جنرل کے طور پر تقرر ہو گیا ہے جو بڑی پیش رفت ہے۔
چینی صدر کی امریکی صدر سے آنے والی ملاقات انتہائی اہم ہے۔ خطے کی صورتحال مکمل تبدیل ہو چکی ہے۔ اس وقت سعودی عرب کی سلامتی کو خطرات لاحق ہیں۔ اگر سعودی عرب کا فوکس حوثیوں کی طرف ہوا تو انہیں شمال کی طرف سے اپنی افواج کو منتقل کرنا پڑے گا جس کا فائدہ اسرائیل اٹھا سکتا ہے۔ پاکستان کوشش کر رہا ہے کہ ایران حوثیوں پر اپنا اثر رسوخ استعمال کرے۔ ایران چاہتا ہے اس کے جواب میں ایرانی معاشی پابندیوں کم کی جائیں۔

WhatsApp
Get Alert