سہیل آفریدی پولیس کے اختیارات بھی اپنی جیب میں ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں، طلال چوہدری

ہم ایک سیاسی جماعت ہیں کئی اختیارات استعمال کرنے سے گریزاں ہیں، جہاں تک گورنر راج کی بات ہے تو اس سے بچنا چاہیے جب تک کہ کوئی آپشن نہ بچے؛ وزیرمملکت برائے داخلہ کی پریس کانفرنس


اسلام آباد (قدرت روزنامہ) وزیرِمملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے خیبر پختونخواہ حکومت کی جانب سے پولیس قوانین میں کی گئی ترمیم اور کمانڈ سٹرکچر میں تبدیلی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے آئین اور قانون سے بالاتر نہیں ہیں اور خیبر پختونخواہ میں پولیس فورس کو تباہ کرنے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ کے پی حکومت نے قانون سازی کے نام پر پولیس کے کمانڈ سٹرکچر کا بیڑہ غرق کر دیا، کیا صوبے مادر پدر آزاد ہیں؟ اگر کل کو سندھ اپنی نیوی اور پنجاب اپنی ریلوے بنانے کا دعویٰ کرے تو کیا یہ ممکن ہے؟ پاکستان پولیس سروس کے رولز ایک سیٹلڈ اور یکساں قانون ہیں، جنہیں کوئی صوبہ اوور رائٹ یا تبدیل نہیں کرسکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایس پی سے اعلیٰ پولیس افسران کی تعیناتی کا اختیار اپنے پاس رکھ کر خیبرپختونخواہ حکومت فورس کو اپنے گھر کی لونڈی بنانا چاہتی ہے، جس سے ڈسپلنڈ فورس کا مورال اور کمانڈ ڈسپلن تباہ ہو کر رہ جائے گا، دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر این ایف سی ایوارڈ سے ملنے والے 800 ارب روپے کہاں خرچ کیے گئے؟ 20 سال سے دہشت گردی کے خلاف برسرِ پیکار صوبے میں سی ٹی ڈی کے دفاتر آج بھی کرائے کی عمارتوں میں چل رہے ہیں۔
وزیر مملکت داخلہ نے کہا کہ پولیس اہلکار بغیر بلٹ پروف جیکٹس کے ڈیوٹی دینے پر مجبور ہیں، ایک ایک دہشت گرد کے پاس 10 سے 15 ہزار ڈالر کا سیکیورٹی سامان موجود ہے جبکہ کے پی پولیس کا سپاہی بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہے، کوہاٹ سانحے کے شہداء کے جنازوں میں کے پی حکومت کا کوئی وزیر شریک نہیں ہوا، جو فورس کے ساتھ کھلی ناانصافی ہے۔ گورنر راج کے امکانات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ ہم ایک سیاسی جماعت ہیں اور آئینی اختیارات کے سخت استعمال سے گریزاں رہتے ہیں، اس لیے آخری آپشن سے بچنا چاہیے لیکن اگر وفاق کے قوانین اور آئین کو چیلنج کیا گیا تو وفاق خاموش نہیں رہے گا، اگر خیبرپختونخواہ حکومت کا یہ غیر آئینی رویہ برقرار رہا تو وفاق پارلیمنٹ کا دروازہ کھٹکھٹائے گا اور آئین و قانون کی بالا دستی قائم کرنے کے لیے سخت قانون سازی اور آئینی اقدامات کا سہارا لے گا۔

WhatsApp
Get Alert