’خواتین بُری ڈرائیور ہیں‘، فواد چوہدری کا سکوٹر چلانے والی خواتین سے متعلق متنازع بیان، سوشل میڈیا پر شدید طوفان


اسلام آباد (قدرت روزنامہ)سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کی جانب سے خواتین سے متعلق ایک اور متنازع بیان سامنے آنے پر سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا ہو گیا ہے۔ اس سے قبل جون کے مہینے میں انہوں نے خواتین کے پولیس فورس میں شامل ہونے کی مخالفت کی تھی جس پر انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا، اور اب 3 ماہ بعد انہوں نے خواتین کے سکوٹر چلانے پر اعتراض اٹھا دیا ہے۔
بی بی سی نیوز پنجابی کی ایک خبر کو ری ٹویٹ کرتے ہوئے، جس میں پنجاب میں خواتین کی بڑھتی ہوئی سکوٹر ڈرائیونگ اور ان کی آزادیِ نقل و حرکت کو فروغ دینے کے لیے مختلف شہروں میں نکالی جانے والی سکوٹر ریلیوں کا ذکر تھا، فواد چوہدری نے دعویٰ کیا کہ اکثر لڑکیاں نہایت بری ڈرائیور ہوتی ہیں‘۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ خواتین کو ڈرائیونگ کی ترغیب دینا ان کی اور دوسروں کی جانوں کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔
فواد چوہدری کے اس واضح خواتین مخالف رویے پر ایکس (سابقہ ٹوئٹر) کے صارفین نے شدید حیرت اور ناگواری کا اظہار کیا۔


سوشل میڈیا صارفین نے سابق وزیر سے سوال کیا کہ کیا ان کے پاس اپنے اس دعوے کو ثابت کرنے کے لیے کوئی مستند اعداد و شمار موجود ہیں یا وہ محض ٹاک ٹاک پر گردش کرنے والی افواہوں پر اترا رہے ہیں۔
بعض صارفین نے پاکستان میں بائیک چلانے والے مردوں کی مثال دیتے ہوئے پوچھا کہ کیا وہ بہتر ڈرائیور ہیں، جو عام طور پر موڑ کا اشارہ (انڈیکیٹر) دینا بھی ضروری نہیں سمجھتے؟
متعدد صارفین نے پاکستان جیسے ماحول میں خواتین کی خود مختاری اور مستقل بنیادوں پر نقل و حرکت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ بعض کا کہنا تھا کہ اگر فواد چوہدری کو واقعی لگتا ہے کہ خواتین اچھی ڈرائیور نہیں ہیں، تو انہیں خواتین کو سڑکوں سے دور کرنے کی ہدایت دینے کے بجائے ان کی بہتر ڈرائیونگ ٹریننگ کی حمایت کرنی چاہیے تھی۔
اس دوران ایک صارف نے فواد چوہدری کو مشورہ دیا کہ وہ دوسروں کو نصیحتیں کرنے کے بجائے اپنا ایکس (ٹوئٹر) اکاؤنٹ ہی بند کر دیں۔


سوشل میڈیا صارفین کے مطابق سابق وفاقی وزیر کا یہ رویہ ان تلخ حقائق سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہے جن کا سامنا پاکستانی خواتین کو سڑکوں پر اور گھروں میں کرنا پڑتا ہے۔
سکوٹر چلانے کی صلاحیت، خصوصاً عوامی ریلیوں کے ذریعے خواتین کو مردانہ تسلط پر مبنی معاشرتی انحصار سے آزاد ہونے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
لڑکیوں کے مطابق، جب وہ سڑکوں پر نکلتی ہیں تو انہیں اکثر مرد بائیک سواروں کی جانب سے گھورنے، تعاقب کرنے اور تنگ کیے جانے جیسے رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جو فواد چوہدری اور عام عوام دونوں کی تنقید کے اصل مستحق ہوتے ہیں۔

WhatsApp
Get Alert