کوئٹہ میں منشیات فروشوں کا سرِعام راج، نوجوانوں کا مستقبل تاریک، پولیس کو صرف رشوت طلب کرنے کے لیے عام شہری نظر آتے ہیں: جے یو آئی

انتظامیہ کی خاموشی مجرمانہ غفلت نہیں، جرائم پیشہ عناصر کی سرپرستی اور پشت پناہی کا کھلا ثبوت ہے


قانون کی گرفت صرف عام شہریوں تک محدود ہے؟ منشیات کے اڈوں کا فوری خاتمہ کر کے سہولت کاروں کو بے نقاب کیا جائے: مولانا عبدالرحمن رفیق
کوئٹہ(ڈیلی قدرت)جمعیت علما اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر شیخ الحدیث مولانا عبدالرحمن رفیق، سیکرٹری جنرل حاجی عین اللہ شمس، سینئر نائب امیر مولانا خورشید احمد، سیکرٹری مالیات حاجی صالح محمد، مفتی رضا خان، حاجی ظفراللہ کاکڑ، میر سرفراز شاہوانی، میر حشمت لہڑی، سیٹھ اجمل بازئی، سالار مولوی علی جان، مولانا سید سعداللہ آغا اور مولوی نقیب اللہ ملاخیل نے کہا ہے کہ شہر میں منشیات کے سرِعام استعمال اور فروخت کا بڑھتا ہوا رجحان نوجوان نسل کے مستقبل کے لیے زہرِ قاتل ہے۔ منشیات کے پھیلا کے باعث معاشرتی جرائم میں اضافے کے خدشات بھی بڑھ رہے ہیں جگہ جگہ منشیات فروشوں کے اڈے سرِعام آباد ہیں نوجوانوں کا مستقبل برباد ہو رہا ہے مگر انتظامیہ کو یہ سب کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ حیرت ہے کہ قانون کے رکھوالوں کو منشیات فروش تو نظر نہیں آتے البتہ عام شہریوں کو روکنے تنگ کرنے اور مبینہ طور پر رشوت طلب کرنے کے لیے ہر گلی اور چوراہے پر مستعد اور تیار دکھائی دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر انتظامیہ کی نظر میں منشیات فروش اور جرائم پیشہ عناصر اتنے ہی معصوم ہیں کہ ان کے خلاف کارروائی ممکن نہیں تو پھر عوام کو یہ بتایا جائے کہ قانون کی گرفت صرف عام شہریوں تک ہی محدود ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں جرائم کے اڈے دن دہاڑے قائم رہیں اور انتظامیہ انہیں روکنے کے بجائے خاموش تماشائی بنی رہے تو یہ محض غفلت نہیں بلکہ ان کی سرپرستی اور پشت پناہی کی عکاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور انتظامیہ کی ذمہ داری عوام کو تحفظ فراہم کرنا ہے نہ کہ جرائم پیشہ عناصر کو کھلی چھوٹ دینا۔ منشیات فروشوں کے خلاف کارروائی کے دعوے بہت ہوچکے اب عوام کو دعووں کے بجائے عملی کارروائی نظر آنی چاہیے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ منشیات فروشوں جرائم پیشہ عناصر اور ان کے مبینہ سہولت کاروں کے خلاف فوری طورپر کارروائی کی جائے۔

WhatsApp
Get Alert