پی ٹی آئی کا لانگ مارچ منسوخ ہو یا ملتوی، یہ اب ثانوی حیثیت اختیار کرگیا ہے، غریدہ فاروقی

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) سینئر صحافی غریدہ فاروقی کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ منسوخ ہو یا ملتوی، یہ اب ثانوی حیثیت اختیار کرگیا ہے، مستند حکومتی ذرائع اب یہ کہنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ سہیل آفریدی کی حکومت صوبے اور قومی سلامتی کیلئے خطرہ بن گئی ہے۔ ایکس پر غریدہ فاروقی کے ٹویٹ کے مطابق لانگ مارچ منسوخ ہو یا ملتوی، یہ اب ثانوی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔
اصل مسئلہ خیبرپختونخوا کی تحریکِ انصاف حکومت کا دہشتگردی اور دہشتگردوں کی طرف رویہ اور عمل ہے۔ جس بےحسی بے توجہی کا مظاہرہ خیبرپختونخوا حکومت کیطرف سے دہشتگردی کیخلاف اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کیجانب کیا جا رہا ہے اور جس ملی بھگت اور چشم پوشی کا مظاہرہ کےپی حکومت کیطرف سے دہشتگردوں کیلئے کیا جا رہا ہے، میں مکمل ذمہ داری سے آپ کو آگاہ کر رہی ہوں کہ مستند حکومتی ذرائع اب یہ کہنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ سہیل آفریدی کی حکومت صوبے اور قومی سلامتی کیلئے خطرہ بن گئی ہے۔
دہشتگردی کیخلاف رویے اور کردار سے ایسا نظر آتا ہے کہ تحریکِ انصاف TTP کی B ٹیم اور TTA کی C ٹیم ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ کسی اور نے ملک کو مفلوج نہیں کیا ہوا۔ لیکن اب آپ کے مفلوج ہونے کی باری ہے۔ انتظار کیا جائے۔ افسوسناک بات تو یہ ہے کہ سہیل آفریدی وزیرِاعلیٰ نہیں، بلکہ TTP کے ذیلی السوال کمانڈر زیادہ لگتے ہیں۔
نہ کےپی حکومت میں ہمت نہ حوصلہ کہ لانگ مارچ کرتے، اب تک محض سیاسی بڑھکیں ہی نظر آئیں۔ اگر سیاسی ہمت ہوتی تو لانگ مارچ لازما کیا جاتا۔ غریدہ فاروقی نے اپنے دوسرے ٹویٹ میں کہا کہ لانگ مارچ ختم شد! یہ اب 5 اکتوبر 10اکتوبر کسی بھی تاریخ کو نہیں ہو گا۔ میں نے تو کل ہی بتا دیا تھا کہ لانگ مارچ منسوخ ہونے جا رہا ہے۔ جماعت نے اپنے کارکنوں کو ماموں بنا دیا۔ افسوس، عوام نے نکلنا نہیں تھا، پی ٹی آئی کو معلوم تھا۔ وفاقی حکومت نے بھی سخت پیغام دیا۔ پی ٹی آئی اور سہیل آفریدی نے معاملات “سیٹ” بھی کرنے تھے کہیں۔ تحریک انصاف نے خود ہی اپنے کارکنوں کو آج جمعہ مبارک کہہ دیا۔
