ڈیرہ بگٹی: وزیر اعلیٰ بلوچستان کے دستِ راست وڈیرہ غلام نبی شمبھانی کے گھر پر دہشت گردوں کا حملہ، بگٹی امن فورس کی جوابی کارروائی میں 13 دہشت گرد ہلاک
وڈیرہ ہدایت شمبھانی کی قیادت میں امن فورس نے دہشت گردوں کے فرار کی کوشش ناکام بنا دی، رات گئے سے علی الصبح تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا

دہشت گردوں کی فائرنگ سے بگٹی امن فورس کا ایک جوان شہید، 3 زخمی کراچی منتقل، بروقت کارروائی نے دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام بنا دیا: قبائلی ذرائع
ڈیرہ بگٹی(قدرت روزنامہ)بلوچستان کے علاقے بیہہ لوٹی میں وزیر اعلیٰ بلوچستان کے دستِ راست اور چیئرمین ضلع کونسل ڈیرہ بگٹی، وڈیرہ غلام نبی شمبھانی کے گھر پر دہشت گردوں کی جانب سے حملہ کیا گیا جس کے بعد بگٹی امن فورس اور حملہ آوروں کے درمیان شدید جھڑپ ہوئی۔ قبائلی ذرائع کے مطابق اس حملے کے بعد امن فورس کی بھرپور اور موثر جوابی کارروائی کے نتیجے میں 13 دہشت گرد مارے گئے۔
قبائلی ذرائع نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ حملے کے فوری بعد وڈیرہ غلام نبی شمبھانی کے بھائی، وڈیرہ ہدایت شمبھانی کی زیرِ نگرانی بگٹی امن فورس کے جوانوں نے دہشت گردوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ شہید فضل خان سب ڈویژن میں گزشتہ شب شروع ہونے والا فائرنگ کا یہ طویل تبادلہ علی الصبح تک جاری رہا۔ جھڑپ کے دوران جب دہشت گردوں نے پسپائی اختیار کرتے ہوئے جائے وقوعہ سے فرار ہونے کی کوشش کی تو بگٹی امن فورس نے ان کا بھرپور تعاقب کیا اور فرار کی اس کوشش کو ناکام بناتے ہوئے 13 دہشت گردوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔
ذرائع کے مطابق دہشت گردوں کی فائرنگ کی زد میں آ کر بگٹی امن فورس کا ایک جوان جامِ شہادت نوش کر گیا جبکہ تین جوان زخمی ہوئے ہیں۔ زخمی ہونے والے اہلکاروں کو فوری علاج معالجے کے لیے کراچی منتقل کر دیا گیا ہے۔ قبائلی ذرائع کا کہنا ہے کہ بگٹی امن فورس کے جوانوں کے بروقت اور بہادرانہ ردعمل نے علاقے میں دہشت گردی کا ایک بہت بڑا منصوبہ ناکام بنا دیا ہے۔
