پختون پنجاب کی رگوں میں ہے، ڈنڈا فساد کا حل نہیں، انیق ناجی کا پیغام
مشرقی پاکستان الگ ہوا تو وہاں کی نفرت ہزار میل دور تھی اس لیے بدلے اور انتقام کی آگ سے محفوظ رہے؛ تجزیہ کار کا بیان

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)معروف تجزیہ کار انیق ناجی نے ملک کی موجودہ سیاسی و داخلی صورتِ حال، کے پی پنجاب کشیدگی اور مسلم لیگ ن کی حکمرانی پر شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ خیبر پختونخواہ کے عوام کو دیوار سے لگانے کی پالیسی اور صوبائی تفریق کا ڈنڈا ملک کو انتہائی ہولناک تباہی کی طرف لے جائے گا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر انیق ناجی نے تاریخی حالات کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ جب مشرقی پاکستان الگ ہوا تو وہاں کی نفرت اور جغرافیائی فاصلہ ہزار میل دور تھا، اس لیے لوگ انتقام کی آگ سے محفوظ رہے، لیکن پختون کراچی میں آباد ہے، پنجاب کی رگوں میں بس رہا ہے اور ملک کے ہر ادارے اور شہر کا حصہ ہے، مذہب ایک ہے اور آپس میں گہری رشتہ داریاں موجود ہیں، دنیا میں ابھی تک ایسا کوئی ڈنڈا ایجاد نہیں ہوا جو اس طرح کی داخلی و قومی کشیدگی اور فساد کا حل فراہم کر سکے۔
مشرقی پاکستان الگ ہوا تو وہاں کی نفرت ہزار میل دور تھی اس لیے بدلے اور انتقام کی آگ سے محفوظ رہے۔ پختون کراچی میں ہے، پنجاب کی رگوں میں ہے ، ہر ادارے ہر شہر میں ہے، مذہب ایک ہے، رشتہ داریاں ہیں۔
کوئی ڈنڈا ایسا ایجاد نہیں ہوا جو اس طرح کے فساد کا حل ہو۔— Aniq Naji (@aniqnaji) September 29, 2026
انہوں نے مسلم لیگ ن کے بیانیے پر کہا کہ ن لیگ نے اپنے دو مہرے بٹھا کر پوری قوم کو بیوقوف بنانے کا ڈرامہ رچایا ہوا تھا کہ تحریکِ انصاف اب ایک دہشت گرد جماعت بن چکی ہے اور ان کا تعلق کالعدم ٹی ٹی پی سے جوڑنے کی مسلسل ناکام کوشش کی جا رہی ہے، ان مسخروں کو یہ معلوم نہیں کہ یہ وہی پرانی پلے بک ہے جو کبھی فاطمہ جناح کو غدار بنانے کے لیے استعمال کی گئی تھی۔
انیق ناجی کہتے ہیں کہ پہلے ذولفقار علی بھٹو ایوب خان کے ساتھ تھے بعد میں انہیں بھی غدار ٹھہرایا گیا، ضیاء الحق کا تحفہ نواز شریف جو ماضی میں ماسک پہنا کرتے تھے، انہیں تو چاہیے کہ آج کل اپنے پورے منہ پر کپڑا چڑھا کر سامنے آئیں کیونکہ جو حشر انہوں نے جمہوریت کا کیا ہے، وہ انتہائی شرمناک اور عبرت کا مقام ہے۔
انیق ناجی 🔥🔥🔥
نون لیگ نے 2 بکرے بٹھائے ہوئے تھے اور قوم کو بیوقوف بنا رہے تھے کہ PTI اب دہشتگرد جماعت بن گئی ہے انکے TTP سے اور طالبان سے تعلق جوڑنے کی کوشش کر رہے تھے ۔ ان مسخروں کو نہیں معلوم کہ یہ playbook اب پرانی ہوگئی یے فاطمہ جناح کو غدار بنانے والی ۔ پہلے بھٹو ایوب… pic.twitter.com/GdufuOqy6L
— SIR Ahmed Khokhar (@khokhr_pedia) September 29, 2026
انہوں نے کہا کہ عمران خان بالکل درست بات کر رہے ہیں کہ ووٹ کو عزت دو اور حقیقی آزادی کا مطالبہ بجا ہے، جب ایک جماعت کے پاس واضح اکثریت ہو اور اس کے باوجود اسے حکومت نہ بنانے دی جائے تو اسے آزادی نہیں کہتے، یہی کام تو مقبوضہ کشمیر میں مسلمان کر رہے ہیں جنہیں ہم حریت پسند کہتے ہیں اور انڈیا انہیں دہشت گرد قرار دیتا ہے، جب عوام کو ان کا جائز اور آئینی حق نہیں دیا جاتا تو اسی قسم کے قدغن اقدامات سے لوگ ناپسندیدہ راستوں پر منتقل ہوتے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ قوم حیران ہے کہ جو شخص الیکشن جیتا ہے وہ جیل میں قید ہے، جبکہ کشمیر میں دیکھ لیں جو الیکشن ہارا اسے وزیراعظم بنا دیا گیا اور پنجاب میں جو الیکشن ہاری اسے وزیراعلیٰ کی کرسی پر بٹھا دیا گیا، اس کے باوجود میاں صاحب سارا منہ لے کر تصاویر کھچوانے کے لیے کھڑے ہو جاتے ہیں، جبکہ یہ پورا منہ دکھانے کا نہیں بلکہ شرم سے منہ چھپانے کا وقت ہے۔
