قوی امکان ہے کہ پی ٹی آئی کی خیبرپختونخواہ گورنر راج اور ایمرجنسی سے بچ جائے گی، منیب فاروق

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) تجزیہ کار منیب فاروق کا کہنا ہے کہ صوبے میں ایمرجنسی نہ لگنے کا زور ٹوٹا ہے لیکن سہیل آفریدی کوعہدے سے ہٹانے پر سوئی ابھی بھی اٹکی ہوئی ہے۔ انہوں نے اپنے وی لاگ میں کہا کہ آج کا دن اہم اس لئے ہے کہ وزیراعظم شہبازشریف واپس آگئے ہیں، وزیراعظم نے چند اہم ملاقاتیں ہوسکتی ہیں، اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ تحریک انصاف کی خیبرپختونخواہ گورنر راج اور ایمرجنسی سے بچ جائے، آج کے دن میں مزید مثبت پیشرفت ہوسکتی ہے، تحریک انصاف کی طرف سے بیک ڈور یا فرنٹ ڈور رابطے ہیں، لانگ مارچ کے حوالے سے کہا گیا کہ بیٹھ کر فیس سیونگ کا حل تلاش کرلیتے تاکہ معاملہ یہی ٹھپ ہوجائے، اسی وجہ سے یہ امکان ہوا ہے کہ تحریک انصاف کی خیبرپختونخواہ گورنر راج اور ایمرجنسی سے بچ جائے۔
تحریک انصاف کے رہنماؤں کی ملاقاتوں اور معافی تلافی کے بعد گورنر راج/ایمرجنسی کا زور ختم نہیں ہوا لیکن ٹوٹا ضرور ہے شائد 5اکتوبر کا لانگ مارچ میں نا ہو، اور عین ممکن ہے کہ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت بچ جائے لیکن سہیل آفریدی کو عہدے سے ہٹانے پر اب بھی سوئی اٹھکی ہوئی ہے کہ… pic.twitter.com/twxyLsaPto
— Ali Hassan (@AliJrnlst) September 30, 2026
میں نے پہلے بھی کہا کہ یہ سب نہیں ہونا چاہئے، کیونکہ صوبے میں دہشتگردی بھی ہے اور پی ٹی آئی کی مضبوط حکومت ہے۔صوبے میں گورنرراج اور ایمرجنسی نہ لگنے کا زور ٹوٹا ہے لیکن سہیل آفریدی کوعہدے سے ہٹانے پر سوئی ابھی بھی اٹکی ہوئی ہے، ان کو جانا ہوگا۔ آپشن یہ ہے کہ ان ہاؤس چینج پر بات ہورہی ہے، یعنی تحریک عدم اعتماد لائی جائے، کچھ لوگوں نے اس پر اتفاق بھی کیا ہے کہ صوبہ بہتر انداز میں چلے اور ریاست کی پالیسی کے مطابق چیزیں وہاں چلائی جائیں۔
