قلعہ سیف اللہ میں عثمان کاکڑ کی وال چاکنگ مٹانا سیاسی نابالغ اور عاقبت نااندیش عناصر کی حرکت ہے، پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی
سیاسی اختلاف کا جواب وال چاکنگ مٹانا نہیں، ایسی غیر اخلاقی حرکات سے عوام کے جذبات مجروح کیے جا رہے ہیں

متعلقہ قیادت اپنے کارکنوں کو روکے ورنہ عوامی ردعمل کی ذمہ دار خود ہوگی، مٹائی گئی وال چاکنگ فوری بحال کی جائے: پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کا انتباہ
کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ): پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی سیکریٹریٹ کے پریس ریلیز میں ضلع قلعہ سیف اللہ سمیت مختلف علاقوں میں پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کی وال چاکنگ، بالخصوص ملی شہید عثمان خان کاکڑ کی وال چاکنگ مٹانے کے غیر سیاسی، غیر اخلاقی اور قابل مذمت اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے قومی روایات، سیاسی اقدار اور جمہوری اصولوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ سیاسی اختلاف جمہوری معاشرے کا حصہ ہے، لیکن سیاسی اختلاف کی بنیاد پر کسی سیاسی جماعت کی وال چاکنگ مٹانا اور بالخصوص ایسے قومی رہنما کی وال چاکنگ کو مٹانا جسے پشتون افغان ملت کے عوام نے اپنی جدوجہد، قربانیوں اور قومی خدمات کے باعث عزت و احترام دیا ہو، انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت رویہ ہے۔ملی شہید عثمان خان کاکڑ پشتون افغان ملت کے ایک اہم قومی رہنما تھے۔ ان کی شہادت پر پشتونخوا وطن کے علاوہ ملک کے مختلف حصوں میں عوام نے جس بھرپور انداز میں غم اور عقیدت کا اظہار کیا اور ان کے جنازے میں لاکھوں افراد نے شرکت کی، وہ ان کی عوامی مقبولیت اور قومی سیاسی کردار کا واضح ثبوت ہے۔ ایسے قومی رہنما کی یاد اور سیاسی جدوجہد سے وابستہ وال چاکنگ کو مٹانا محض ایک تحریر مٹانا نہیں بلکہ عوام کے جذبات اور قومی سیاسی اقدار کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔بیان میں کہا گیا کہ قلعہ سیف اللہ میں پیش آنے والا یہ واقعہ چند عاقبت نااندیش اور سیاسی نابالغ عناصر کی ایسی حرکت ہے جسے کسی صورت معمولی نہیں سمجھا جا سکتا۔ اگر کسی سیاسی جماعت کو پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے سیاسی مؤقف یا سرگرمیوں سے اختلاف ہے تو اس کا جواب سیاسی دلائل، عوامی رابطے اور جمہوری جدوجہد کے ذریعے دیا جائے، نہ کہ وال چاکنگ مٹا کر اور سیاسی ماحول کو کشیدہ بنا کر۔پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے متعلقہ سیاسی جماعت کی قیادت کو دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ وہ اپنے کارکنوں کو ایسی غیر سیاسی اور غیر اخلاقی حرکات سے فوری طور پر روکے اور انہیں سیاسی مخالفین کے احترام، جمہوری اقدار اور قومی روایات کی پابندی کی ہدایت کرے۔ بصورت دیگر ایسے واقعات سے پیدا ہونے والی سیاسی کشیدگی اور عوامی ردعمل کی ذمہ داری ان عناصر اور ان کی قیادت پر عائد ہوگی۔بیان میں مطالبہ کیا گیا کہ ملی شہید عثمان خان کاکڑ کی مٹائی گئی وال چاکنگ کو فوری طور پر اسی مقام پر بحال کیا جائے اور آئندہ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی یا کسی بھی دوسری سیاسی جماعت کی وال چاکنگ کو نقصان پہنچانے سے مکمل اجتناب کیا جائے۔پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے واضح کیا کہ پارٹی اپنے قومی شہداء اور رہنماؤں کی یاد، سیاسی نظریے اور جدوجہد کو عوامی سطح پر اجاگر کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہے اور کسی بھی غیر سیاسی دباؤ یا اشتعال انگیز اقدام سے اپنی آئینی، جمہوری اور سیاسی جدوجہد سے دستبردار نہیں ہوگی۔ سیاسی اختلاف کو دشمنی میں تبدیل کرنا کسی کے مفاد میں نہیں، اس لیے متعلقہ عناصر کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر اس غیر سیاسی طرزِ عمل کا خاتمہ کریں اور آئندہ قومی و سیاسی شخصیات کے احترام کو یقینی بنائیں۔
