کم عمر اور غیر تربیت یافتہ ڈرائیورز سڑکوں پر چلتے پھرتے خطرہ، والدین کی مجرمانہ لاپروائی پر پولیس کا کریک ڈاؤن

قوانین کی کھلی خلاف ورزیاں جاری، دو ماہ میں 1 کروڑ 16 لاکھ سے زائد کے جرمانے عائد
کوئٹہ میں بغیر لائسنس، بغیر کاغذات اور کم عمر ڈرائیوروں کے خلاف کارروائیاں تیز
کم عمر ڈرائیورز نہ صرف اپنے زندگی کو خطرے میں ڈالتے ہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی خطرات کا باعث بنتے ہیں
دو ماہ میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر ایک کروڑ 16 لاکھ 48 ہزار 700 روپے جرمانے وصول کیے گئے ہیں
کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ)شہر میں ٹریفک قوانین پر مثر عملدرآمد کو یقینی بنانے، شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور سڑکوں پر بڑھتے ہوئے حادثات کی روک تھام کے لیے ٹریفک پولیس نے بغیر ڈرائیونگ لائسنس، بغیر ضروری دستاویزات گاڑی چلانے والوں اور کم عمر ڈرائیوروں کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کر دی ہیں۔ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کے خلاف قانون کے مطابق جرمانے عائد کیے جا رہے ہیں جبکہ مختلف شاہراہوں اور اہم چوراہوں پر خصوصی چیکنگ بھی جاری ہے۔ترجمان بلوچستان پولیس کے مطابق گزشتہ دو ماہ کے دوران ڈرائیونگ لائسنس کے اجرا کے سلسلے میں مجموعی طور پر 9 ہزار 607 ڈرائیونگ لائسنس جاری کیے گئے، جبکہ اسی عرصے کے دوران ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر ایک کروڑ 16 لاکھ 48 ہزار 700 روپے کے جرمانے وصول کیے گئے۔ جرمانے مختلف نوعیت کی خلاف ورزیوں پر عائد کیے گئے جن میں بغیر لائسنس ڈرائیونگ، غیر قانونی پارکنگ، غلط سمت میں گاڑی چلانااور کم عمر افراد کی جانب سے گاڑیاں ،موٹر سائیکل اور ٹریکٹر وغیرہ شامل ہیں شامل ہیں۔ترجمان نے کہا کہ ٹریفک قوانین پر سختی سے عملدرآمد کا بنیادی مقصد شہریوں کو محفوظ سفری ماحول فراہم کرنا اور ٹریفک حادثات کی شرح میں نمایاں کمی لانا ہے۔ ان کے مطابق کم عمر بچوں کی جانب سے موٹر سائیکل چلانا ایک سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں نہ صرف ان کی اپنی جان کو خطرات لاحق ہوتے ہیں بلکہ دیگر شہریوں کی زندگی بھی خطرے کا باعث بنتے ہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ کم عمر ڈرائیورز عموما ٹریفک قوانین، سڑکوں کے آداب اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی مناسب صلاحیت نہیں رکھتے، جس کے باعث حادثات کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے ٹریفک پولیس کم عمر موٹر سائیکل سواروں کے خلاف خصوصی مہم چلا رہی ہے اور والدین کو بھی اس سلسلے میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی تلقین کی جا رہی ہے۔ترجمان بلوچستان پولیس نے والدین سے اپیل بھی کی کہ وہ اپنے کم عمر بچوں کو موٹر سائیکل یا کسی بھی قسم کی موٹر گاڑی چلانے کی اجازت نہ دیں اور قانون کی پاسداری کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کو کم عمری میں ڈرائیونگ کی اجازت دینا نہ صرف ان کی زندگی کو خطرے میں ڈال سکتا ہے بلکہ دوسروں کے لئے بھی خطرات کا باعث بنتے ہیں جبکہ قانونی کارروائی کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ٹریفک پولیس نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ گاڑی یا موٹر سائیکل چلانے سے قبل باقاعدہ ڈرائیونگ لائسنس حاصل کریں، تمام ضروری دستاویزات اپنے پاس رکھیں، دوران سفر ٹریفک قوانین کی مکمل پابندی کریں اور موٹر سائیکل چلاتے وقت ہیلمٹ کا لازمی استعمال کریں۔ شہریوں کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی اور دوسروں کی حفاظت کے لیے مقررہ رفتار، لین ڈسپلن اور ٹریفک اشاروں کی پابندی کو یقینی بنائیں۔کوئٹہ ٹریفک پولیس کی جانب سے شہریوں میں ٹریفک قوانین سے متعلق آگاہی پمفلٹس تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر شہریوں سے اپیل کی گئی کہ ٹریفک قوانین کی پاسداری کریں، ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور سڑکوں پر اپنی اور دوسروں کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔ترجمان نے مزید کہا ک ٹریفک نظام کو بہتر بنانے، حادثات کی روک تھام اور شہریوں کیجان و مال کے تحفظ کے لیے عوامی تعاون ناگزیر ہے۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ جرمانوں اور قانونی کارروائی سے بچنے کے لیے ٹریفک قوانین پر عمل کریں اور ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیں تاکہ شہر میں محفوظ اور منظم ٹریفک نظام کو فروغ دیا جا سکے۔
