آئی ایم ایف کا حکومت سے فیول ریلیف سکیم ختم کرنے کا مطالبہ

اسلام آباد(قدرت روزنامہ) پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ کے درمیان فیول ریلیف اسکیم اور گیس سیکٹر کے گردشی قرضے سے متعلق معاملات پر اختلاف برقرار ہے، آئی ایم ایف نے ایندھن پر عمومی سبسڈی کے بجائے مستحق افراد کو ہدف بنا کر ریلیف دینے پر زور دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان پیٹرول کی قیمتوں اور گیس کمپنیوں کے تقریباً 1.4 ٹریلین روپے کے قابل وصول واجبات کے معاملے پر ڈیڈلاک برقرار ہے۔
آئی ایم ایف کا مؤقف ہے کہ فیول ریلیف اسکیم کو ابتدائی تین ماہ سے آگے بڑھانا مشکل ہوگا، جبکہ حکومت نے موٹر سائیکلوں اور چھوٹی گاڑیوں کے مالکان کیلئے اسکیم فوری طور پر ختم نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومت نے آئی ایم ایف کو پیٹرول کی قیمت کا تفصیلی تخمینہ بھی پیش کیا، درآمدی پیٹرول کی لاگت تقریباً 250 روپے فی لیٹر ہے، جبکہ صارفین کو یہ تقریباً 390 روپے فی لیٹر میں دستیاب ہے۔ قیمت میں ٹیکسز اور مختلف مارجنز بھی شامل ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ تین ماہ کی فیول ریلیف اسکیم کی اصل لاگت 75 ارب روپے سے تجاوز کرسکتی ہے۔ آئی ایم ایف نے حکومت کو ایندھن پر سبسڈی یا کراس سبسڈی کے بجائے ہدفی امدادی طریقہ کار اپنانے پر زور دیا ہے۔
واضح رہے کہ حکومت نے ستمبر میں کم آمدن والے طبقات کیلئے ڈیجیٹل فیول ریلیف اسکیم کی منظوری دی تھی۔
